
نئی دہلی ،17فروری (میرا وطن)
شعبہ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایرانولوجی ہال میں منگل کو ’قوم پرستی، احیائے فکر اور ہمہ گیر اسلامی تصور: علامہ اقبال کی شاعری میں سیاسی و ثقافتی تبدیلیاں‘کے عنوان سے بائیسواں پروفیسرہادی حسن یادگاری خطبہ کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس اجلاس کا افتتاح ڈاکٹر یاسر عباس نے تلاوت کلام پاک سے کیا ۔ اس کے بعد گلدستوں سے مہانوں کا استقبال کیا گیا۔آج کے مقرر خاص ڈاکٹر روی کانت مشرا ،جوا مئنٹ ڈائرکٹر، وزیر اعظم میوزیم ولائبریری نئی دہلی تھے ۔ صدارت وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف اور مہمان اعزازی کی حیثیت سے پروفیسر اقتدار محمد خان ڈین فیکلٹی آف ہیومنٹیز اینڈ لیونگیجز نے شرکت فرمائی۔
ڈاکٹر روی کانت مشرا نے علامہ اقبال کے کلام کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہم ان کے کلام کو دو حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ ایک انگلینڈ جانے سے پہلے کا کلام ہے اور دوسرا اس کے بعد کا ۔انہوں نے اقبال کی نظم ہمالیہ، رام، نیا شوالہ، شکوہ اور جواب شکوہ، طلوع اسلام، اور ان کے دیوان بانگ درا، اسرار خودی، جاوید نامہ وغیرہ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے ان کی قوم پرستی، وطن پرستی اور ہمہ گیر اسلامی تصور کا تفصیلی جائزہ لیا۔
وائس چانسلرپروفیسر مظہر آصف نے کہا کہ علامہ اقبال ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے اور انکا کلام قو م پرستی اور حب الوطنی سے لبریز نظر آتا ہے۔ انہوں نے پروفیسر ہادی حسن کی زندگی پر روشنی ڈالتے ہو ئے کہا کہ اگرچہ ان کا موضوع فارسی نہیں تھا مگر انہوں نے فارسی زبان و ادب کی خدمات انجام دیں او ر نایاب تحریریں بھی یادگار چھوڑیں۔
پروفیسر اقتدار محمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کا یہ خطبہ بہت معلومات افزا ہے اور طلبا ضرور اس سے استفادہ کریںگے۔ ڈاکٹر محسن علی نے پروفیسرہادی حسن اور آج کے مقرر ڈاکٹر روی کانت مشرا کا تعارف کرایا اور آخر میںپروفیسر سید کلیم اصغر نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر زھرا خاتون نے انجام دیئے۔
پروگرام میں شرکت کرنے والوںمیںپروفیسر عبدالحلیم، پروفیسر حبیب اللہ، پروفیسر پریتی شرما صدر شعبہ تاریخ،پروفیسر کوثر مظہری صدر شعبہ اردو،پروفیسر عراق رضا زیدی، ڈاکٹر انور خیری، ڈاکٹر مظہر الحق، ڈاکٹر الیاس، ڈاکٹر رحما جاوید ، ڈاکٹر ذوالفقار انصاری، ڈاکٹر صہیب، ڈاکٹرنوید جعفری دہلوی کے علاوہ بڑی تعداد میں جامعہ اور جے این یو کے طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
No Comments: