
ایم سی ڈی کے زبانی حکم کے بعد مسجد کمیٹی کادباﺅ میں فیصلہ ،پہلے سے بکنگ کرنے والوں کی نیند اڑی
پرانی دہلی کی شاہی عیدگاہ کے احاطوں میں شادی تقریبات بند ہونے کی خبر سے لوگ سکتے میں ہیں
نئی دہلی،3جنوری (میرا وطن )
دہلی سرکار اور دہلی وقف بورڈ کے تحت راجدھانی میں واقع درگاہوں اور مساجد احاطوں میںابھی تک ہونے والی فلاحی سرگرمیاںآئندہ وقت میں نہیں ہوسکیں گی ۔اس کا اشارہ مسجد فیض الہٰی کے تعلق سے دہلی میونسپل کارپوریشن کے لینڈ اینڈ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے حالیہ ایک زبانی فرمان سے اشارے ملے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مسجد کی منیجنگ کمیٹی نے اپنے نوٹس بورڈ پر نوٹس چشپاں کردیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعدہی عید گاہ منیجنگ کمیٹی نے بھی عید گاہ احاطے میں کسی شادی بیاہ تقریب نہیں ہونے کی کہی ہے ۔حالیہ میں ان واقعات کے بعد اب راجدھانی میں ایسے مقامات پر شادی بیاہ سمیت دیگر سرگرمی ہورہی تھیں وہاں کے منتظمین پر بھی دباﺅ بڑھ گیا ہے ۔اس کا اثر ان لوگوں پر زیادہ پڑ رہا ہے جنہوں نے ایسے مقامات پر شادی بیاہ کو بک کیا تھا اور ان کی ساری تیاریں چل رہی ہیں ۔
قابل ذکر ہے کہ’ مسجد فیض الہٰی کے احاطے میں جن لوگوں نے ایک سال یاپھر چھ مہینے پہلے اپنے بیٹے او ر بیٹیو ں کی شادی کے لئے بکنگ کرائی ہے ،وہ مسجد منیجنگ کمیٹی کے فیصلے سے حیران و پریشان دکھائی د ے رہے ہیں ۔ایک تو ان لوگوں نے بکنگ کے لئے پوری فیس جمع کی ہے جبکہ ٹینٹ والوں ، باورچی
وغیرہ کو ایڈوانس بھی دیا جاچکے ہیں ۔اس کے ساتھ ہی ان شادیوں میں کے مدعو کارڈ میں یہاں پتہ بھی
تحریر ہے ۔مسجد کمیٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ ایم سی ڈی نہیں چاہتی ہے کہ وہ یہاں کوئی فلاحی سرگرمی کا انعقاد کرسکیں ۔ کیونکہ ایم سی ڈی کے متعلقہ محکمہ نے مسجد احاطے میں انہدامی کارروائی یا سیل کرنے کا زبانی حکم دے دیا ہے ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کو امید تھی کہ نئی سرکار کچھ عوامی کے مفاد کے کاموں کو تیز کرے گی لیکن بی جے پی سرکار تو پہلے سے عام طور پر ہورہی عوام کی فلاحی سرگرمیوں کو ہی بند کر رہی ہے ،مسجد فیض الہٰی تازہ مثال ہے ۔مسجد فیض الہیً کے معاملے میں عام آدمی پارٹی اور کانگریس کی طرف سے کوئی باقاعدہ بیان جاری ہوا ہے اور نہ ہی ان کے لیڈر کوئی بیان دے پا رہے ہیں اور نہ ہی ایم سی ڈی کے تانا شاہی کے احکامات کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں ۔خاص کر دہلی وقف بورڈ کے افسروں کی خامو شی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ بورڈ کا لیگل سیل مسجد فیض الہٰی کے معاملے میں کوئی لیگل پہل نہیں کر پا رہا ہے جبکہ مسجد دہلی وقف بورڈ کے تحت آتی ہے ۔
اس تعلق سے کئی سرگرم سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ حالانکہ مسجد فیض الہٰی کا معاملہ ایک عرضی کی وجہ سے یہاں تک پہنچا ہے لیکن عدالت کے احکامات کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن ایک پارٹی بن کر کام کر رہا ہے جبکہ اسے دہلی وقف بورڈ ،ڈی ڈی اے ،ایل اینڈ ڈی اور مسجد منیجنگ کمیٹی کے موقف کے مد نظر بھی تمام صورتحال کو دیکھنا چاہئے ۔ان سماجی کارکن کا الزام ہے کہ دہلی سرکار میں پہلے ایک مذہبی کمیٹی کے احکا مات پر درگاہوں اور مسا جد پر انہدام کی کارروائی ہورہی تھی جس کے سربراہ موجودہ ایم سی ڈی کمشنر اشونی کمار رہے ہیں ،وہ دہلی وقف بورڈ کے ایڈمنسٹریٹر بھی ہیں ۔
No Comments: