
نئی دہلی، 28 جنوری (میرا وطن)
بزمِ پیمبرانِ سخن کے زیر اہتمام ایک ادبی نشست کا انعقاد ‘جشن صبرو وفا’ کے عنوان سے ذوالفقار باقر زیدی کی سر پرستی میں سنگم وہارکالونی میں دولت کدہ مغل زادہ اختر مرزا پر کیا گیا۔جس میں دہلی کے نامورنوجوان شعرائے کرام نے شرکت کی اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ بزمِ پیمبرانِ سخن کی یہ تیسری نشست تھی۔اس نشست میں تلاوت و نظامت کے فرائض مولانا ایم ایم بابر عظمتی نے انجام دیے۔ صدارت مولانا حیدر علی جعفری پیش امام مسجد امام جعفر صادق علیہ السلام نے کی۔اس نشست کے لیے مصرع دیا گیا تھا۔ع ہیں دونوں بابِ شجاعت حسین اور عباس۔ دیے گیے مصرع پر شعرائے کرام نے منقبتی اشعار پیش کیے۔
اس بزم کے زیر اہتمام ماہ میں ایک مرتبہ نشست کا انعقاد کیا جاتا ہے جس سے نو عمر شعرا کی آبیاری ہو سکے۔آج کے اس دور میں نئے شعراءکے لیے تربیت کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بزم کا وجود عمل میں آیا ہے۔ شعرائے کرام کے منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔
خدا کا دین سقیفائیوں میں بٹ جاتا
اگر نہ کرتے حفاظت حسین اور عباس
اختر مرزا
سجے جو آمدِ مہدی پہ بزم شعرو سخن
کرائیں مجھ سے نظامت حسین اور عباس
محمّد مہدی
چراغ بجھتے ہی روشن چراغ دل کے ہوئے
بنے ہیں روح بصارت حسین اور عباس
ماسٹر مشرف
علی ہیں شہر شجاعت تو یوں کہا جائے
ہیں دونوں باب شجاعت حسین اور عباس
مولانا قرطاس نقوی
اذاں میں تیر اقامت میں برچھیاں کھائیں
ہیں پھر بھی محوِ عبادت حسین اور عباس
فجر مرزا
اگرچہ مجلس و محفل بپا خلوص سے ہو
تو اس میں کرتے ہیں شرکت حسین اور عباس
ذوالفقار بابر زیدی
وہ بھائیوں کا کبھی دل دکھائے نہ ممکن
جو پڑھ لے آپ کی سیرت حسین اور عباس
مولانا حیدر علی جعفری
سرور مصحف ناطق وجود حسن قبول
چراغِ قصر ہدایت حسین اور عباس
مولانا بابر عظمتی
اٹھاکے گود میں دونوں کو کہ رہے ہیں علی
ہیں دونوں بابِ شجاعت حسین اور عباس
مولانا رضوان
اذاں میں تیر اقامت میں برچھیاں کھائیں-ہیں پھر بھی محوِ عبادت حسین اور عباس
’بزمِ پیمبرانِ سخن‘کے زیر اہتمام ’جشن صبر و وفا‘ کے عنوان سے نشست کا انعقاد
No Comments: