
دہلی میونسپل کارپوریشن کے باڑ لگانے کی کارروائی ہائی کورٹ کے ڈائریکنش کی خلاف ورزی:گنگوہی
منیجنگ کمیٹی اس معاملے میں عنقریب ہی سپریم کورٹ میں داخل کرے گی عرضی ،تیاریاں جاری
پولیس نے اتوار کو دو گرفتاریاں کیں،دونوں کی شناخت فہیم عرف سانو (30) اور محمد شہزاد (29)
پتھراو ¿، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے سلسلے میں کل 18 افراد کو گرفتار کیا ہے، 50 سے زیادہ کی شناخت
تشدد اور بدامنی میں تقریباً 150 سے 200 لوگ ملوث تھے،آئندہ مزید گرفتاریاں ہونے کا خدشہ
نئی دہلی، 11جنوری(میرا وطن )
مسجد درگاہ فیض الہٰی انہدامی کارروائی کے بعد بھی دہلی میونسپل کارپوریشن کا اگلا مشن جاری ہے ۔اسی کے تحت ایم سی ڈی نے مسجد احاطے میں جن مقامات پر بلڈوزر چلا کرکے تعمیرات کو زمین بوس کردیا تھا اب اسی خالی جگہ پر تاروں کی باڑ لگانی شروع کردی ہے ۔مسجد منتظمہ کمیٹی اور علاقے کی سرکردہ شخصیا ت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایم سی ڈی تاروں کی باڑ کو پکی باﺅنڈری میں تبدیل کرخالی اراضی کو اپنے قبضے میں لینا چاہتی ہے جبکہ اس کی یہ گھیرا بندی ہائی کورٹ کے ڈائریکشن کی خلاف ورزی ہے ۔
ادھر پولیس نے اتوار کو مزید دو گرفتاریاں کیں۔ گرفتار ملزمان کی شناخت فہیم عرف سانو (30) اور محمد شہزاد (29) کے نام سے ہوئی ہے۔آج تک، پولیس نے پتھراو ¿، ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے سلسلے میں کل 18 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے 50 سے زیادہ لوگوں کی شناخت کر لی ہے اور ان کی تلا ش کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیو فوٹیج، جسم سے پہنے ہوئے کیمر ے کی فوٹیج، اور چہرے کی شناخت کے نظام (ایف آر ایس ) کا استعمال کر رہی ہے۔
وسطی ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ندھین والسن نے بتایا کہ منگل کو ہونے والے تشدد اور بدامنی میں تقریباً 150 سے 200 لوگ ملوث تھے۔ پولیس کی ٹیمیں ان کی شناخت کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ 50 سے زائد ملزمان کی شناخت کے بعد ان کی تلاش جاری ہے۔ ان میں سے اکثر اپنے گھرو ں سے بھاگ گئے ہیں۔سینٹرل ڈسٹرکٹ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے تشدد اور پتھراﺅکی 100 سے زائد ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لے لی ہیں۔ ان ویڈیوز میں ملزم کو ہنگامہ آرائی کرتے یا بھاگتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پولیس ان فوٹیج کی بنیاد پر ملزمان کی شناخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ دہلی پولیس نے ترکمان گیٹ کے تمام راستوں کو نقل و حمل کے لئے کھول دیا ہے ۔مسجد فیض الہٰی اور بڑی مسجد میں پانچ وقت کی نماز بھی ادا ہورہی ہے ۔ترکمان گیٹ علاقے کے اندر کے را ستوں کو بھی نقل و حمل کے لئے کھول دیا گیا ہے ۔حالانکہ علاقے میں صورتحال معمول پر آتی جا رہی ہے لیکن ایم سی ڈی کے ذریعہ مسجد فیض الہٰی کے خالی مقامات پر تاروں کی باڑ لگا کر گھیرا تنگ کرنے اور د ہلی پولیس کے ذریعہ لگاتار گرفتاریاں کرنے کے عمل سے مقامی لوگوں کو خوف طاری ہے ۔کچھ سرکردہ کا کہنا ہے کہ دونوں انتظامیہ کی الگ الگ مسلسل کارروائی سے لوگوں میں غصہ بھی پایا جاتا ہے جس کے پھوٹنے کا خدشہ ہے۔
گزشتہ روزمسجد درگاہ فیض الہٰی کے معاملے کو لے کرآئندہ کا لائحہ عمل کو لے کر منتظمہ کمیٹی کی میٹنگ پھا ٹک تیلیان میں منعقد کی گئی تھی جس میں چیف پیٹرن چودھری نجم الدین ،سکریٹری حافظ مطلوب کریم ،رکن جاوید خان،حاجی محمد صابرین ،حاجی محمد ادریس خاں وغیرہ نے حصہ لیا تھا ۔اس میٹنگ میں متفقہ طور پراراکین نے طے کیا ہے کہ مسجد فیض الہٰی میں انہدامی کارروائی کو سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی جائے ۔جن نوجوانوں کی گرفتاری ہوئی ہے ان کی قانونی مدد فراہم کی جائے ۔جن لوگوں کی بکنگ تھی ان سبھی کی جمع رقم واپس کی جائے ۔
اس تعلق سے سوشل ورکر اور آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ مسجد فیض الہٰی کے انہدام کئے احاطہ میں ایم سی ڈی کے ذریعہ باڑ لگا کر گپھیرا بندی کیا جانا ہائی کورٹ کے ڈائریکشن کی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہا کہ منیجنگ کمیٹی سمیت دیگر سطح پر اس معاملے میں سپریم کورٹ جانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں ،اس لئے مقامی لوگ کسی افواہ پر دھیان نہ دے کر امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون دیں تاکہ قانونی چارہ گوئی سے انصاف ملنے کا راستہ ہموار ہوسکے
No Comments: