Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ابو الفضل قبرستان کے باہر ،شاہین باغ اور جسولا میں پانی بھرنے کی پریشانی ہوگی دور

مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے نالہ ابلنے کے مسئلے کے حل کرنے کا کیا دعویٰ

جسولا نالے میں ہم نے پائپ ڈالے ہیں،آئندہ میں مزید پائپ ڈالنے کا پروگرام
ابو الفضل انکلیو،شاہین باغ اور جسولا کے نالے کو ابلنے کو لے کر خوب ہوئی سیاست
دہلی جل بورڈ نے وکھلا کے ایس ٹی پی سے چھوڑا تھا پانی ،جس سے پیدا ہوا تھا مسئلہ
اوکھلا ایس ٹی پی دہلی سرکار اور نالہ اتر پردیش سرکار کے ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کے تحت
دہلی ،یو پی ،ایم سی ڈی اور مرکز میں بی جے پی کی سرکار ،عوامی مسائل کے حل کےلئے آگے آئیں
میرے حلقہ کے عوام کو پریشانی ہوتی ہے ،میں لوگوں کے ساتھ کھڑا ہوں،دقتیں کرﺅں گا دور

نئی دہلی ،25جنوری (میرا وطن)
اوکھلا اسمبلی حلقہ کے تحت ابو الفضل -شاہین باغ لائف لائن روڈ پر نالے کا گندا پانی بھرنے کا مسئلہ سے فی ا لحال نجات ملتی نظر آرہی ہے ۔حالانکہ شاہین قبرستان کے عین مقابل روڈ پر برساتی نالے کا گندا پانی آجانے سے تقریباً ایک مہینے تک مقامی لوگ اور راہ گیر پریشان بھی رہے ۔جبکہ بی جے پی سے متعلق چند لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج بھی کیالیکن کوئی حل نہیں نکلتا دیکھ انہوں نے اپنا دھر نہ خود ہی ختم کرالیا ۔اپنے حلقہ کے عوام کی پریشانی کے مد نظرآپ کے مقا می ایم ایل اے امانت اللہ خان نے گز شتہ روز جسولہ کی سمت نالے میں دو بڑی پائپ ڈلوا ئیں جس سے اب شاہین باغ کی طرف برساتی نا لے میں بیک مار رہا گندا پانی کم ہوگیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ ایم ایل اے نے دہلی جل بورڈ کے ذریعہ او کھلا کے ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی ) سے چھوڑے جا رہے پانی کو ڈسکنیکٹ کرا دیا ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اب دوبارہ پانی ابو الفضل انکلیو -شاہین باغ روڈ پر نہیں بھرے گا ۔
قابل ذکر ہے کہ مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان کے ذریعہ 30دسمبر کو کالندی کنج 9نمبر پارک کے نز دیک 40فٹہ روڈ کے اندرونی پوائنٹ پر نالے پر بنی(ٹوٹی) پلیا کے از سر نوکام کے افتتاح کے موقع پر ابو الفضل- شاہین باغ لائف لائن روڈ پر برستاتی نالے کے ابلنے کے سبب لوگوں کو ہورہی دقتوں کو ہفتے بھر کے اندر ختم کرنے کا اعلان کیا گیاتھا ۔بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد ہی بی جے پی سے جڑے چند کارکن اسی مسئلے کے فوری حل کے مطالبے کولے کر شاہین باغ قبرستان کے عین مقابل دھرنہ پر بیٹھ گئے لیکن نہ تو عوام سڑک پر اتری اور نہ ہی دھرنہ دے رہے لوگوں کے ساتھ دیگر بی جے پی کارکنان یا کسی دیگر پارٹی کے کارکنان جڑ پائے ۔بہر حال اس مسئلے کو لے کر خوب سیاست ہوئی اور اپوزیشن لیڈ روں نے بیان بازی بھی ،اس دوران لوگوں نے بھی اپنی پریشانیاں بیان کیں لیکن عوام کی دقتیں پھر بھی بر قرار رہیں۔
دلچسپ یہ ہے کہ دہلی جل بورڈ کے ذریعہ اوکھلا واقع ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) سے پانی چھوڑے جانے سے کچھ دنوں پہلے جسولہ گاﺅں کا نالہ او ور فلو ہوگیا تھا اورگندا پانی روڈ پر آنے کے ساتھ لو گوںکے گھروں تک پہنچ گیا ۔اس وقت بھی بی جے پی کے منتخب نمائندے ،پارٹی کارکنان کے ساتھ کچھ لوگوں نے بھی احتجاج کیا ،اس وقت مقامی ایم ایل اے نے وہاں تین پائپ ڈلوا ئیںجس کے بعد ہی پریشانی ختم ہوئی ۔فی الحال اسی مقام پر گزشتہ روز دو پائپ ڈلوائی گئی ہیں جس کے بعد شاہین با غ برستاتی نالے کا پانی ڈاﺅن ہوگیا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ اگر اوکھلا ایس ٹی پی کا پانی آئندہ وقت میں ( ڈسکنیکٹ رہا) نہیں چھوڑا جائے تب نالہ ابلنے کی دقت ختم ہوجائے گی ،اگر ایسا نہیں ہوا تب پھر دقت پیدا ہوجائے گی۔
گزشتہ روز مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان نے سوشل میڈیا پر ایک آ ئڈیو ویڈیو جاری کر کے بتایا کہ دہلی جل بورڈ نے اوکھلا ایس ٹی پی سے پانی چھو ڑا تھا اور یہ پانی ان کے حلقہ کا نہیں ہے ۔دہلی جل بورڈ بی جے پی کی ریکھا سرکار کے تحت ہے ،جبکہ نالہ اتر پردیش سرکار ( ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ ) کے تحت آتا ہے ۔اس مسئلے پردھرنہ پر بیٹھے لوگ بی جے پی سے تعلق رکھتے تھے اور جنہوں نے دھرنہ ختم کرا یا وہ دیگر(کانگریس ) پارٹی سے ہیں ۔یہ مسئلہ دہلی سرکار اور یو پی سرکار کا ہے اور ایس ٹی پی سے چھوڑا جا نے گندا پانی دہلی کے ایک بڑے حصے کا ہے ،ان کے حلقہ کا نہیں ہے میرے ماتحت بھی نہیں ہے ،حا لا نکہ میں یہاں کا لوکل ایم ایل اے ہوں اور اگر میری عوام کوکسی طرح کی بھی پریشانی ہورہی ہے تب یہ میری ذمے داری ہے اسے حل کراﺅں،میں پہلے بھی دور کراتا رہا ہوں اور اب بھی کرا رہا ہوں اور آگے بھی کراتا رہوں گا۔
امانت اللہ خان نے کہا کہ برساتی نالہ ابلنے اور گنا پانی سڑک پر آنے سے لوگوں کو پریشانی اٹھانی پڑی اس کے لئے میں سبھی لوگوں سے معازرت خواں ہوں۔انہوں نے کہا کہ عوام کی پریشانی کو دور کرنے میںکچھ تاخیر ہوئی اس کی کئی وجوہات رہیں ،ایک تو جس مقام پر پائپ ڈلوانی تھیں وہاں مقامی کسی شخص کی تیرہویں کا پنڈال لگ گیا تھا ،دوسرے کسی سرکاری کام کو کرنے میں کئی طرح کی رکوائر منٹ ہوتی ہیں اور تیسرا میں الیکشن میں مہاراشٹر چلا گیا تھا ۔امانت اللہ خا ن نے کہا کہ ابتدا میں دہلی جل بورڈ اوکھلا ایس ٹی پی کا پانی چھوڑنے کی بات کر رہا تھا تب انہوں نے یو پی ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ کوفنڈ دیے جانے کی بات کہی تھی کہ آگے جب تک آﺅٹ فال کے لئے تعمیری کام مکمل نہیں ہوگا پانی تیز رفتار سے آگے نہیں جائے گا اور بیک مار سکتا ہے۔
امانت اللہ خان نے کہا کہ دہلی سرکار اوریو پی سرکار اوکھلا ایس ٹی پی کے پانی کو چھوڑنے سے پہلے آگے کے نالے کا کام مکمل کرائیں تاکہ پھرپانی چھوڑنے کے بعد آﺅٹ تیز ہوجائے اورگندا پانی حلقہ کے برساتی نالے میں بیک نہیں مارے گا اور ابلنے کی دقت بھی ختم ہوجائے گی ۔گزشتہ روز نالے کے ابلنے سے روکنے کے لئے پائپ ڈلوانے کے کام کے موقع پر ایم ایل اے ٹیم کے ارکان عبد القادر،شکیل سیفی ،عبد الغفار خان ،ایڈ ووکیٹ حسن اقبال ،عمران چودھری ،نسیم سلانی ،محبوب علی چودھری بطور خاص موجو د تھے ۔ اوکھلا ودھان سبھا صدر محمد خالد نے ایم ایل اے کے ذریعہ مسئلے کا حل کرانے کو خوش آئندبتاتے ہوئے کہا کہ امانت اللہ خان ہمیشہ حلقہ کے عوام دقتوں کو آگے آتے ہیں چاہے وہ کام ان کے دائرے اختیار میں ہو یا نہیں ہو۔
واضح رہے کہ اوکھلا ایس ٹی پی (سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ) پروجیکٹ قومی مشن برائے صاف گنگا اور د ہلی جل بورڈ کی مشترکہ کوشش ہے۔ اس کی شروعات 2017 میں ہوئی تھی اورجون 2024 سے کام کرنے لگا تھا ۔ پلانٹ سے ٹریٹ کیا ہوا پانی واپس دریا میں چھوڑا جائے گا۔ باراپلا اور مہارانی باغ کی نالیوں سے آنے والے تقریباً 132 ایم ایل ڈی سیو ریج کے فضلے کو بھی اس پلانٹ میں جمنا میں چھو ڑ نے سے پہلے ٹریٹ کیا جائے گا۔ ٹریٹ شدہ پانی کو پرانی آگرہ کینال میں چھوڑا جا رہا ہے۔پچھلے دنو ںتعمیراتی کام مکمل نہیں ہونے کے باجود اسے ابوالفضل نالے کے ذریعے اوکھلا بیراج کے نیچے یمنا میں چھوڑ نے کی شروعات کردی گئی ،جس سے حلقہ میں مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *