
نئی دہلی، 2جنوری (میرا وطن )
حالیہ میں پرانی دہلی کے آصف علی روڈ پر ترکمان گیٹ علاقے میں واقع قدیمی مسجد فیض الٰہی کے متعلق دہلی کے وزیر داخلہ آشیش سود نے منتظمہ کمیٹی کے ایک وفد کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ایم سی ڈی کے متعلقہ افسران سے بات کرکے مسجد پر کی جانے والی ممکنہ کارروائی کوختم کرائیں گے ۔انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسجد ہر حالت میں محفوظ رہے گی لیکن تب خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایم سی ڈی عدالتی ڈائریکشن کے اعتبار سے اپنی آگے کی کارروائی میں مصروف ہے اور وہ کبھی مسجد پر کارروائی کرسکتی ہے ۔گزشتہ روز یہ خدشہ سچ ثابت ہوا جب ممکنہ کارروائی کرنے کے لئے ایم سی ڈی کا انہدامی دستہ مسجد کے احا طے میں پہنچ گیا ،یہ الگ بات ہے کہ مسجد منتظمہ کمیٹی نے اس کے ارادوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا ،اس کے با و جود ایم سی ڈی کی طرف سے وارننگ دی گئی ہے کہ 4جنوری کے بعد احاطے میں مختلف سرگرمی والی جگہ کو یا تو منہدم یا پھر سیل کردیا جائے گا ۔
قابل ذکر ہے کہ مسجد فیض الٰہی کا معاملہ فی الحال عدالت میں زیر غور ہے جس کی اگلی تاریخ 12فروری ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ پچھلے دنوں سیوا فاﺅنڈیشن نامی تنظیم کے ایک رکن نے دہلی ہائی کورٹ میں مسجد کو غیر قانونی بتاکر کے اس کو منہدم کرنے کی عرضی داخل کی تھی ،جس پر بنچ نے دہلی میونسپل کارپوریشن کو ا س معاملے کے متعلقہ فریقین سے بات کر نتیجے پر پہنچنے کا ریمارکس دیا تھا ۔ اس کے بعد ایم سی ڈی کے
لینڈ اینڈ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ڈی ڈی اے ،ایل اینڈ ڈی او ،دہلی وقف بورڈ اور مسجد منتظمہ کمیٹی سے دو میٹنگیں کی اور اس کے ڈپٹی کمشنر نے مسجد کے باہر کا احاطہ جس میں شادی گھر ،میڈیکل سینٹرکے سا تھ تبلیغی جماعت کے مرکز کوغیر قانونی بتایا ۔ جبکہ اس وقت مسجد کمیٹی نے ایم سی ڈی کے اس دعویٰ کوغلط بتاتے ہوئے شواہد کے ساتھ اپنا موقف رکھا تھا لیکن ان کی دلائل کو نظر انداز کردیا گیا تھا ۔
بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ روز ایم سی ڈی کا انہدامی دستہ بغیر متعلقہ فریقین کو پیشگی اطلاع دیے مسجد فیض الٰہی میں پہنچ گیا اور احاطے کی پیمائش و دیگر کارروائی کے بعد سرگرمیاں چل رہے حصے کو منہدم کرنا چاہتا تھا ،جس کی شدید طور پر مخالفت کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ منتظمہ کمیٹی کے اراکین نے ایم سی ڈی افسروں کو عدالت میں معاملے کے زیر غور ہونے کے ساتھ دیگر شواہد سے واقف کرایا ۔حالانکہ گزشتہ روز تو یہاں پیمائش کے علاوہ کوئی دیگر کارروائی نہیں ہوئی ۔مگر ایم سی ڈی کے افسر واضح الفاظ میں وارننگ دے کر گئے ہیں کہ 4جنوری تک یہاں تمام کمر شیل سرگرمیاں بند کردی جائیں اور آگے کوئی بھی ایسی سرگرمی نہیں ہونے دی جائے گی ،ان کے کہنے کا مطلب ہے کہ اب یہاں شادی نہیں ہوںگی ، فلاحی سرگرمی نہیں ہوںگی ،ساتھ ہی ایک طرح سے دہلی سمیت ملک بھر کے عازمین حج کے لئے لگنے والے کیمپ نہیں لگ سکیں گے ۔
اس معاملے کا ایک دلچسپ یہ پہلو ہے کہ دہلی میونسپل کارپوریشن کا محکمہ عدالت کے حکم پر اپنی کارروائی آگے بڑھا رہا ہے ۔منتظمہ کمیٹی کے ارکان تو کچھ حرکت میں ہیںاور وہ ہائی کورٹ کی ڈبل بنچ لیکن یہا ں کے منتخب عوامی نمائندے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ویسے تو مسجد فیض الہٰی مٹیا محل اسمبلی حلقہ کے تحت آتی ہے اور ایم ایل اے آل محمد اقبال ہیں ،جبکہ چاندنی محل کے کونسلر محمد عمران ،ترکمان گیٹ کی کونسلر رافعہ عامر اور دہلی گیٹ کی کونسلر سابق کونسلر راکیش کمار کی اہلیہ کرن بالا ہیں ۔جبکہ بگل کی اسمبلی بلیماران کے ایم ایل اے عمر ا ن حسین ہیں اور کونسلر محمد صادق جبکہ چاندنی چوک کے ایم ایل اے پنر دیپ سنگھ ساہنی ہیں ،ان کے وارڈ جامع مسجد کی کونسلر سلطان آباد ہیں ۔
مسجد فیض الہٰی کا معاملہ کچھ دنوں سے سرخیاں بنا ہوا ہے لیکن مقامی ایم ایل اے آل محمد اقبال ،کونسلر را فعہ ماہر ،کونسلر محمد عمران اور کونسلر کرن بالا کا کوئی بیان یا سرگرمی دکھائی نہیں دی ہے ۔حالانکہ مسجد کمیٹی کے جنرل سکریٹری حافظ محمد مطلوب کا کہنا تھا کہ پچھلی میٹنگوں میں ایم سی ڈی کے رویے کو دیکھتے ہوئے ہم نے طے کر لیا تھا کہ وہ عدالت سے رجوع کریں گے اور اس کی تیاریاں بھی چل رہی ہیں کہ وہ اس معا ملے کو ڈبل بینچ کے سامنے لے جائیں لیکن ایک بار پھر گزشتہ روز کی ایم سی ڈی کی اچانک سرگرمی سے محسوس ہورہا ہے کہ وہ ہمیں وقت رہتے عدالت میں جانے سے روکنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے طے منصو بہ کے مطابق کچھ انہونی کرسکے ۔واضح رہے کہ مسجد درگاہ فیض الہٰی وقف کی 123جائیدادوں میں شامل ہے جس کا معاملہ 1984سے دہلی ہائی کورٹ میں زیر غور ہے۔
سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے کہا کہ دہلی کے وزیر داخلہ آشیش سود نے ایک وفد کو مسجد کو کسی طرح کے نقصان نہیں ہونے کی یقین دہانی کرائی تھی ،لیکن انہیں پہلے خدشہ تھا ایم سی ڈی پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا اور گزشتہ روز وہی ہوا ۔انہوں نے کہا کہ منتظمہ کمیٹی کو اب بغیر تاخیر کے کوئی عملی پہل کرنی چاہئے تاکہ مسجد کو کسی امکانی خطرے سے بچایا جاسکے اور پرانی دہلی کے پر امن ماحول کو برقرار رکھا جاسکے ۔
No Comments: