
نئی دہلی،6جنوری (میرا وطن)
دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوسرے دن منگل کو حکمراں بی جے پی کے اراکین نے عام آدمی پار ٹی کے رہنماو ¿ں سے اس جھوٹ کو پھیلانے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا کہ جس میں اساتذہ کو آوارہ کتو ں کی گنتی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس معاملے پر بر سر واقتداراور اپوزیشن کے درمیان ہنگامہ آ ر ائی کے باعث ایوان کی کارروائی دو بار ملتوی کی گئی۔ جب 11 بجے ایوان دوبارہ شروع ہوا تو بی جے پی اور اے اے پی ارکان کے درمیان گرما گرم بحث کے ساتھ ہلکی پھلکی نوک جھونک ہوئی۔
اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے اراکین سے ایوان کی کارروائی کی اجازت دینے کی اپیل کی لیکن ہنگا مہ آرائی جاری رہی جس کی وجہ سے نصف گھنٹے کی کارروائی ملتوی کردی گئی۔ جب ایوان دوبارہ شروع ہوا تب حکمراں پارٹی کے ممبران اسمبلی نے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور سابق وزیر اعلی اروند کجریوال سمیت AAP رہنماو ¿ں کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ گپتا نے خلل کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن ارکان نے بھی احتجاج میں نعرے بازی شروع کردی۔ جب ہنگامہ جاری رہا تو انہوں نے ایوان کی کارروائی ایک بجے تک ملتوی کر دی۔
اس سے قبل دہلی کے وزیر تعلیم آشیش سود نے سابق وزیر اعلی اروند کجریوال کو ایک خط لکھ کر الزام لگایا تھا کہ وہ آوارہ کتوں کی گنتی کے لیے سرکاری اساتذہ کی تعیناتی سے متعلق غلط اور گمراہ کن بیانات دے رہے ہیں۔خط میں کہاگیا ہے کہ اس معاملے پر سرکاری سرکلر پہلے ہی پبلک میںہے۔ انہوں نے اس معاملے پر سابق وزیر اعلیٰ سے عوامی معافی کا مطالبہ کیا۔
کھانے کے وقفے کے بعد جب ایوان دوبارہ شروع ہوا تو اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا نے بی جے پی ایم ایل اے اجے مہاور کی طرف سے اٹھائے گئے معاملے کو تحقیقات کے لیے محکمہ سے متعلقہ قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کو بھیج دیا۔ بی جے پی ا ور اے اے پی ممبران اسمبلی نے بھی دن بھر ایوان کے باہر احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔
دریں اثنا، دہلی پولیس نے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی ہے ، جس میں کچھ سوشل میڈیا صارفین پر دہلی کے اسکول کے اساتذہ کی طرف سے آوارہ کتوں کی گنتی کے حوالے سے جھوٹے اور گمراہ کن دعوے پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے۔
No Comments: