
نئی دہلی، 12 فروری(میرا وطن)
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی میں صحت کی دیکھ بھال کے تباہ حال نظام کو دیکھتے ہو ئے 2025-26 میں راجدھانی میں کینسر کے معاملات میں غیر معمولی اضافہ تشویشناک ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے کینسر کا علاج صرف تین سے چار اسپتالوں میں دستیاب ہے، لیکن سرکاری اسپتالو ں میں سہولیات کی کمی کی وجہ سے مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ایک سال قبل اعلان کیا تھا کہ ملک بھر میں 297 ڈے کیئر کینسر سینٹر قائم کیے جائیں گے، لیکن صرف 102 ہی قائم ہوئے ہیں۔ مر کزی سرکار کی جانب سے غیر متعدی امراض کے لیے دہلی کو 11.07 کروڑ روپے مختص کرنے کے باوجود دہلی میں سنگل ڈے کیئر کینسر سنٹر کھولنے میں ناکامی بی جے پی کی قیادت والی دہلی سرکار کی بے حسی کو بے نقاب کرتی ہے۔
ریاستی صدر نے کہا کہ دہلی میں آلودگی کی بنیادی وجہ طرز زندگی میں تبدیلی اور ہوا میں پی ایم 2.5 بار یک ذرات کی سطح میں اضافہ ہے جو براہ راست پھیپھڑوں اور نظام تنفس کو متاثر کر رہا ہے۔ 2025 میں تقریباً 44فیصد کے ساتھ منہ اور گلے کا کینسر سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔ چھاتی کا کینسر 9فیصد او ر پتتاشی کا کینسر 5فیصد ہے۔ 40-50 سال کی عمر کے لوگ کینسر سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی ایم آر کے اعداد و شمار کے مطابق دہلی میں 2024 میں کینسر کے 28,387 اور 2023 میں 27,561 کیس رپورٹ ہوئے تھے اور اس سال کیسوں میں 23 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں کینسر کے 15 لاکھ کیسز ہر سال رپورٹ ہو رہے ہیں جس میں سال 2045 میں 67 فیصد اضافے سے 25 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے جو کہ ایک دھماکہ خیز اعداد و شمار ہے
No Comments: