
نئی دہلی ،31دسمبر (میرا وطن )
دہلی میں سیاسی تبدیلی سے قبل عام آدمی پارٹی کی سرکار پر الزام لگتے رہے کہ وہ اقلیتوں خاص مسلمانو ں سے منسلک اداروں کی تشکیل نو میں سرد مہری اختیار کر رہی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو سرکاری منصو بو ں اور اسکیموں کا فائدہ نہیں مل پارہا ہے،لیکن بی جے پی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی مسلم ادا ر وں کی حالت جس کی تس بنی ہوئی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگست 2023سے دہلی وقف بورڈ تحلیل پڑ ا ہے۔اسی طرح دہلی اقلیتی کمیشن اوردہلی اردو اکادمی کی بھی نئی باڈی تشکیل نہیں ہوئی ہے۔ جبکہ دہلی اسٹیٹ حج کمیٹی کی مدت 5جنوری 2026کو ختم ہورہی ہے ۔
دہلی وقف بورڈ میں کرپشن کی دہائی د ے کر عام آدمی پارٹی کو گھیرتی رہی بی جے پی اور اس کی دہلی سرکارکے سامنے اب نئی باڈی تشکیل کے ساتھ بورڈ کوشفاف بنانے کا بھی چیلنج رہے گا ۔
بتایا جاتا ہے کہ نئے وقف ایکٹ کے مطابق دہلی وقف بورڈ کی تشکیل کے دوران تمام ممبران کی تقر ری اب دہلی سرکار ہی کرے گی۔ جبکہ اس سے قبل بورڈ کی تشکیل میں کچھ ممبران کے لئے الیکشن ہوتا تھا او ر کچھ کو سرکار نامزد کرتی رہی تھی ۔قابل ذکر ہے کہ دہلی سرکار کو تمام ممبران کی نامزدگی کا اختیار ملنے بات سا منے آنے کے بعد سے ہی دہلی وقف بورڈکی نئی باڈی میں جگہ پانے کو لے کر جوڑ توڑ شروع ہوگئی ہے ۔خوا ہش مند لیڈر بی جے پی کی ریاستی اور اعلیٰ قیادت تک پہنچ رہے ہیں ۔ان میں دہلی پردیش اقلیتی مور چہ کے ساتھ بی جے پی قومی اقلیتی مورچہ سے جڑ ے کئی عہد یدار بھی شامل ہیں ۔بی جے پی کے مسلم لیڈر اورپارٹی عہدیداران یا تو خود مسلم اداروں سے وابستہ ہونا چاہتے ہیں یا پھر اپنے چہیتوں کو سیٹ کرانے کو لے کر سرگرم ہوگئے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ پارٹی مسلم سماج میں سے بھی کچھ شفاف شبیح کے افراد و شخصیات کی بھی تلاش کر رہی ہے۔
حالانکہ بی جے پی اعلیٰ قیادت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہے کہ کس طرح سے دہلی وقف بورڈ کی تشکیل نو کے دوران شفافیت کو بر قرار رکھا جائے۔کیونکہ ماضی کے تلخ تجربات بتاتے ہیں کہ اب تک خو د بی جے پی ،کانگریس اور عام آدمی پارٹی کی مدت کار میں جتنے بھی بورڈ تشکیل ہوئے ہیں،ان بورڈ سربرا ہوں کے ساتھ ممبران اور افسران پر بھی بدعنوانی کے سنگین الزام لگتے رہے ہیں۔اسی کا نتیجہ رہا ہے کہ بورڈ کے معاملات کو عدالت تک میں لے جایا گیا ۔ پچھلی مدت کار میں بھی کافی وقت تک سیکو رٹی ایجنسیوں جیسے اے سی بی ،سی بی آئی اورای ڈی کی جانچ کی وجہ سے نئی باڈی بنانے میں تاخیر ہوئی ۔ عدالت میں معاملے زیر غور رہنے کی وجہ سے بھی اس وقت بورڈ کی تشکیل نہیں ہوپائی تھی ۔
بتایا جاتا ہے کہ دہلی وقف بورڈ کے چیئر مین رہے سراج پراچہ کے بعد چیئر مین ہارون یوسف ،چودھری متین احمد ،امانت اللہ خان اور محترمہ رانا پروین صدیق وغیرہ رہے ہیں ۔جبکہ سراج پراچہ سے پہلے امتیا ز خان ،سید احمد ہاشمی ،مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی،مرزا اقبال شاہ ،ذاکر حسین ،نواب لیاقت علی خان اور دیگر چیئر مین رہے ہیں۔بتایا یہ بھی جاتا ہے کہ ان میں جو بھی زیادہ مدت تک بورڈ چیئر مین رہا اس پراتنے ہی الزام لگتے رہے ۔ان الزامات میں ذاتی طور پر وقف اراضی کی فروخت یا ناجائز قبضہ یا پھر وقف ارا ضی کولیز پراونے پونے داموں پر فروخت کرنا ہو یا پھر خود وقف اراضی پر کمرشیل تعمیر کراکے اس کی آڑ میں بدعنوانی ہو یا پھر بورڈ میں عارضی یا مستقل تقرریاںہونا ہو شامل ہیں ۔
باکس :
نئے وقف بورڈ تشکیل دینے میں اب صوبائی سرکار ہی ممبران کو نامزد کرے گی ۔ان میںدو غیر مسلم ممبر ان کے ساتھ کل11 ممبر ہوںگے جن میں دو خواتین،ایک ایک ممبر شیعہ، سنی اور پسماندہ زمرہ سے لا زمی ہے۔ان میں ایک ممبر پارلیمنٹ ،ایک ایم ایل اے ،ایک عالم ،ایک کونسلر ،ایک متولی،ایک وکیل ،ایک سرکاری افسر،ایک سماجی کارکن اور ایک سی ای او ایکس-اوفیسیو شامل ہیں ۔اسی طرح وقف ٹریبیونل میں بھی اب3 ممبران کی جگہ صرف 2ہی ممبر رہیں گے ۔اس میں اب اسلامی قوانین کے جاننے والی لازمیت ختم کر دی ہے۔
باکس :
اس سے قبل دہلی وقف بورڈ کی تشکیل میں ممبر اسمبلی زمرہ ،متولی زمرہ ،ممبر پارلیمنٹ زمرہ ،دہلی بار کونسل زمرہ ،اسلامی اسکالر زمرہ ،سوشل ورکرزمرہ اور مسلم سرکاری افسر کا ہونا ضروری تھا ۔ان میں ممبر اسمبلی ،متولی اور بار کونسل زمرے کے رکن الیکٹڈ ہوکر آتے تھے ۔جبکہ اسلامی اسکالر ،سوشل ورکر اور مسلم سرکا ری افسر کو دہلی سرکار نامزد کرتی تھی ۔
باکس :
قابل ذکر ہے کہ 5دسمبرکو وقف پراپرٹیز کو امید پورٹل پر رجسٹر کرنے کی آخری تاریخ کے بعد غیر رجسٹر ڈ
جائیدادوں سے متعلق جو بھی شکایت ہوں گی ،ان کے لئے وقف ٹربیونل سے رجوع کیا جاسکتا ہے ، لیکن دہلی میں کئی سال سے وقف ٹربیونل ہی نہیں ہے ،تب تصفیہ کہاں سے ہوگا ۔بتایا جاتا ہے کہ دہلی میں کل 3152 پراپرٹیز ہیں ،جن میں سے اب تک 100سے کم ہی پراپرٹیز وقف امید پورٹل پر منظور ہوئی ہیں جن میں سے کئی مسترد ہوچکی ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ قومی راجدھانی میں وقف ٹربیونل کی تشکیل نہیں ہونے پر دہلی ہائی کورٹ بھی دہلی سرکار کے رویے پر سخت برہمی کا اظہار کرچکا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ پنجاب ،گجرات ،تلنگانہ ،یو پی وغیرہ ریاستوں میں وقف ٹربیونل موجود ہیں جس سے وہاں کے لوگوں کو راحت کی خبر ہے وہ وہاں رجوع کرسکتے ہیں لیکن دہلی میں وقف ٹربیونل نہیں ہونے کی وجہ سے پریشانی بڑھنا تشویشناک پہلو ہے۔
No Comments: