
چند لوگ ہی کرتے رہے احتجاج ،مقامی لوگ نہیں نکلے سڑک پر
آپ کے مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان نہیں پہنچنے دھرنہ مقام پر
سابق کانگریسی ایم ایل اے آصف محمد خان نے پہنچ کر دھرنہ ختم کرایا
احتجاج کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ کرکے بنائیں گے کوئی لائحہ عمل
کجریوال سرکار میں پیدا ہوئی پریشانی ،ریکھا سرکار میں جاری
یو پی اور دہلی سرکار ہی کرسکتی ہے مسئلے کا حل ،بڑے فنڈ کی ضرورت
اگر مسئلے کے حل فوری نہیں نکالا گیا تب ماہ رمضان المبارک میں بڑھے گی لوگوں کی پریشانی
نئی دہلی 22،جنوری (میرا وطن )
اوکھلا اسمبلی حلقہ کے لوگوں کی بد قسمتی ہی کہیں گے کہ ابو الفضل انکلیو -شاہین باغ (لائف لائن) مین رو ڈ پر ابل رہے نالے کا مسئلہ برقرار ہے ۔جبکہ اس کے خلاف کچھ لوگوں نے تقریباً بیس سے بائیس دن
تک بطو ر احتجاج ایک طے شدہ وقت تک دھرنہ دے کربھی کیا اورآپ کے مقامی ایم ایل اے امانت اللہ خان اورکانگریس کی کونسلر اریبہ خان کو ذمے دار بھی ٹھہر ا یا ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ تقریباً 20دن تک کوئی بھی منتخب نمائندہ جائے وقوع نہیں پہنچا جبکہ دھرنہ دے رہے مظاہرین ان سے گہار لگاتے ر ہے کہ گاڑیاں ہچکولے کھا رہی ہیں ،جس کی وجہ سے لوگوں کا جینا محال ہوگیا ہے۔
دلچسپ یہ ہے کہ اس دھرنہ مظاہرے سے علاقائی لوگوں نے دو ری بنائے رکھی ۔حالانکہ مقامی رہائشی ا و رراہ چلتے لوگوں میں منتخب نمائندوں کے تئیں نار اضگی دیکھی گئی اور پیدا ہوئے مسئلہ کے حل کی گہار ضرو ر لگا تے رہے۔بہر حال احتجاج میں شامل چند ہی لوگ شامل تھے جن میں زیادہ تر بی جے پی سے جڑ ے ہو ئے تھے اور چند ایک عام آدمی پارٹی اور کانگریس سے بھی جڑے ہوئے بتا ئے جا رہے ہیں ۔بتا یا جا تا ہے کہ مقامی ایم ایل اے نے اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ،حالانکہ انہوں نے کچھ د ن پہلے 9نمبر پر پلیا کے تعمیری کام کا افتتاح کرتے ہوئے ایک ہفتے میں نالے کے مسئلے کوحل کرنے کا یقین بھی لوگو ں کو دلایا تھا۔
بہر حال مظاہرین اس مسئلے کاکوئی حل ہوتا نہیں دیکھ پریشان ہوگئے اور جس کے بعدگزشتہ شام سا بق کا نگریسی ایم ایل اے آصف محمد خان جائے وقوع پر پہنچ گئے اورانہوں نے مسئلے کے حل کو لے کر آگے کا لا ئحہ عمل تیار کرنے کی یقین دہانی کراکے د ھرنہ ختم کرایا ۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ احتجاجی دھرنہ دے ر ہے ان لوگوں میں سے ہی کسی نے سابق ایم ایل اے کو فون کرکے جائے وقوع آنے کی درخواست کی کہ کسی طرح وہ معاملہ حل کرائیں ۔کیونکہ مقامی ایم ایل اے کی طرف سے کوئی ریسپانس نہیں مل رہا تھا اور دھرنہ دے رہے لوگوں کو آگے کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔
جبکہ یہ معاملہ پہلے بھی حساس بنا ہوا تھا اور دھرنہ ختم ہونے کے بعد بھی حساس بنا ہوا ہے ۔مقامی لوگ اتنی دقتیں برداشت کرنے کے باوجود سڑک پر نکل کر نہیں آئے ،جس کی وجہ سے دھرنہ دے رہے لوگو ں کو حوصلہ ٹوٹ گیا ۔ان لوگوں نے سردی کے اس موسم میں یہ کہہ کر دھرنہ دیا تاکہ علاقے میں کوئی وبا نہیں پھیل جائے لیکن ان کے ہاتھ مایوسی ہی لگی وہ کامیاب نہیں ہوسکے ۔
گز شتہ شام دھرنہ مقام پر پہنچنے آصف محمد خان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ آج کا نہیں ہے بلکہ عام آدمی پارٹی کی سر کارکی مدت میںدو تین سال پہلے میٹرو کے تعمیری کام کے دوران یہ مسائل پیدا ہوا تب انہوں نے امانت اللہ خان کے حامیوں کو واقف کرایا تھا لیکن یا توانہوں نے تجربہ نہیں ہونے یا پھر جان بوجھ کر مسائل کی طرف توجہ نہیں دی ۔انہوں نے کہا کہ جب یہ مسئلہ ابو الفضل اور شاہین باغ میں پیدا ہوا تب بھی امانت اللہ خان لوگوں کو گمراہ کرتے رہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ یا تو کجریوال سرکار میں حل ہو سکتا تھا لیکن تب مقامی ایم ایل اے نے اگر سنجیدگی دکھائی ہوتی ،فی الحال بھی یہ مسئلہ یو پی سرکار اور دہلی سرکار ہی حل کرسکتی ہیں کیونکہ اس میں ایک بڑے بجٹ کی ضرورت پڑے گی ۔
آصف محمد خان کا کہنا تھا کہ جب تک اوکھلا ٹینک کی طرف سے آنے والے گندے پانی کو آگرہ کینال میں نہیں چھوڑا جائے گا تب یہ صورتحال بنی رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ یو پی ایریگیشن ڈیپارٹمنٹ نے اس مسئلے کے حل کے لئے مقامی ایم ایل اے اور جل بورڈ سے تقریباً 8کروڑ روپے مہیا کرانے کو کہا تھا جوا نہیں مہیا نہیں کرائے جاسکے ۔اتنی رقم دینا نہ تو ایم ایل اے کے بس میںہے اور نہ ہی ایم پی خرچ کرسکتے ہیں ،صرف سرکا ریں ہی مہیا کراسکتی ہیں ۔آصف محمد خا ن نے کہا کہ اگر یہ کام جلد شروع ہوجا ئے تب بھی پانچ چھ مہینے پانی نکاسی کے تعمیری کام میں لگ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اب دھرنہ دے ر ہے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا جس کے بعد متعلقہ اداروں سے رابطہ کرکے اس مسئلے کے حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔
بتایا جاتا ہے کہ دہلی جل بورڈ کے ذریعہ پانی سپلائی کی لائن ڈالنے کی بات کہی گئی جبکہ یہ میٹرو کی ٹرنک لائن تھی جس میں اوکھلا ٹینک کاٹریٹمنٹ پلانٹ کا پانی آنا تھااور اس کی وجہ سے نا لہ آگے سے بند کردیا گیا جبکہ پانی نکاسی کا راستہ وسیع کرناتھا۔اس نالے کا گندا پانی پہلے جسولہ گاﺅں میں بھر ا تھا جس سے و ہاں کے لوگ پریشان ہوئے ۔کسی طرح وہاں کی پریشانی ختم ہوئی تب وہی پانی اب شاہین باغ اور ابو الفضل مین روڈ پر آگیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ دھرنہ مظاہرے سے بھی اس مسئلے کا حل نہیں نکل سکا ہے اور آگے لوگوں کی دقتیں بند بڑھیں گی ۔
بتایا جاتا ہے کہ پانی نکاسی کے لئے شاہین باغ کے عین مقابل جوسیویج پمپنگ اسٹیشن بنایا گیا ہے اگر کھولا گیا تب پانی دوبارہ سڑک بڑی مقدار میں آجائے گا کیونکہ اس کو کئی بار بند کیا گیا ہے تب پانی روڈ پر کم ہوگیا تھا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی کونسلر اریبہ خان نے بھی اس پمپ کو بند کیا تھا لیکن بتایا جاتا ہے کہ اب جل بورڈ بند کرنے والے چکر کو ہی اتار کر لے گئے ہیں ،اس لئے اب اسے کسی دیگر شخص کے ذریعہ بند بھی نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ اگر اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا تب ماہ رمضان المبارک میں لوگوں کو ایک بڑی دقت سے جوجھنا پڑسکتا ہے ۔فی الحال نالے کا گندا پانی سڑک پر سیلاب کی طرح بھرا ہوا ہے اور ایک طرف سے کی سڑک کا بڑا حصہ بند ہے اور ایک ہی سڑک پر گاڑیوں کی آمدرفت ہو رہی ہے ۔اس سڑک کے جتنے حصے میں گند ا پانی بھرا ہوا ہے ،اس پر گڑھے ہوگئے ہیں اور ای رکشا بھی پلٹنے کی اطلات ہیںاور لوگوں کے زخمی ہونے کی بات سامنے آچکی ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آ پ کے ابو الفضل انکلیو وارڈ انچارج ایڈ ووکیٹ حسن اقبال ،اوکھلا ودھان سبھا صدر محمد خالد اور ان کی تنظیم کے دیگر عہدیداران اس معاملے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔ اگر ان کی خاموشی یوں ہی جاری رہی اور مسئلہ کا کوئی حل نکالنے کا راستہ ہموا رنہیں کیا گیا تب آئندہ رمضانالمبار ک کے مقدس مہینے میں بھی لوگوں کو پریشا نیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
No Comments: