
نئی دہلی، 2فروری(میرا وطن)
دہلی-این سی آر میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے معاملے میں مرکزی سرکارکی سنجیدگی کی قلعی کھل گئی ہے۔ عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ کی جانب سے راجیہ سبھا میں آلودگی کنٹرول اور ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی )سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب نے مرکزی سرکا ر کی ناکامی کو بے نقاب کر دیا ہے۔سرکار نے اپنے جواب بتایا گیاا ہے کہ 2024-25میں آلودگی کنٹرول کےلئے مختص 858کروڑ میں سرکار محض 16.2کروڑ خرچ کرسکی۔
مرکزی وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے موصولہ جواب پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ مرکزی سرکار کی نااہلی کے باعث دہلی-این سی آر میں آلودگی سے عوام کا دم گھٹ رہا ہے۔سرکارنے فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کا بھی ذکر کیا ہے، جن میں گاڑیوں کے اخرا ج، صنعتی اخراج، تعمیر و انہدام کے فضلے، بلدیاتی ٹھوس کچرے کے نظم و نسق کے ساتھ ساتھ سڑک کی گرد ، تعمیراتی گرد اور کھلے میں جلانے پر قابو پانے کے اقدامات شامل ہیں۔ فضلہ جاتی نظم و نسق کے لیے سی پی سی بی نے سی اینڈ ڈی فضلہ اور ٹھوس فضلہ سے متعلق رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔
سرکارکے مطابق سال 2019میں 24ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے 130شہروں میں فضائی آلودگی کم کرنے کے لیے قومی سطح کی حکمت عملی کے طور پر قومی صاف ہوا پروگرام شروع کیا گیا۔ این سی اے پی کے تحت تمام 24ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے فضائی معیار میں بہتری سے متعلق پالیسیوں اور پروگراموں کے نفاذ کے لیے ریاستی سطح کے عملی منصوبے تیار کیے ہیں۔
سنجے سنگھ نے نجی آجرین کی جانب سے ملازمین کے پروویڈنٹ فنڈ (پی ایف)قواعد پر عمل نہ کرنے کے معاملے پر بھی وزیرِ محنت و روزگار سے سوال کیا تھا۔
No Comments: