
نئی دہلی، 18 فروری (میرا وطن)
وزیر ماحولیات منجندر سنگھ سرسا نے قومی پیداواری کونسل (این پی سی)، محکمہ ماحولیات، اور دہلی آلودگی کنٹرول کمیٹی (ڈی پی سی سی) کے افسروں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ جس میں بائیو میڈیکل ویسٹ کی موجودہ اور متوقع مستقبل کی صورتحال، پلانٹس کی تکنیکی خصوصیات اور عملدرآمد کے روڈ میپ پر تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔افسروں نے وزیر کو مطلع کیا کہ ’ پہلے صرف دو پلانٹس پورے دہلی ضلع کا احا طہ کرتے تھے، نئے مجوزہ پلانٹس اضافی بوجھ کو کم کریں گے، جس سے بہتر اور سرشار انتظام کی اجازت ہوگی۔
میٹنگ میںپریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ دہلی کے مشرقی، شمال، مغربی، جنوبی اور وسطی علاقوں سے فی الحا ل تقریباً 40 ٹن بائیو میڈیکل فضلہ روزانہ پیدا ہو رہا ہے۔بائیو میڈیکل ویسٹ میں مستقبل میں متوقع اضافے کو مد نظر رکھتے ہوئے، مجوزہ نئی کامن بایومیڈیکل ویسٹ ٹریٹمنٹ فیسیلٹی (سی بی ڈبلیو ٹی ایف ) کی گنجائش 46 ٹن یومیہ مقرر کی گئی ہے، جو تقریباً 2300 کلوگرام فی گھنٹہ کے برابر ہے، اور یہ پلانٹ روزانہ 20 گھنٹے کام کریں گے۔
No Comments: