Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

’اردو ادب کا عصری منظر نامہ: اہمیت اور معنویت‘ پر قومی سمینار کاانعقاد

ڈیجیٹل عہد میں اردو ادب اپنی شناخت کے ساتھ زندہ اورنئی معنویت پیدا کررہا ہے: سراج اجملی

نئی دہلی،14فروری(میرا وطن)
عصر حاضر میں کوئی ایک نظریہ ادبی اظہار پر اس طرح حاوی نہیں رہا جیسا کہ ماضی میں تھا۔ آج کا اد یب پوری آزادی کے ساتھ اپنی انفرادیت، علاقائی و معاشرتی شناخت، ماحولیات، ڈیجیٹل زندگی اور نفسیاتی مسائل کو اپنے تخلیقی اظہار کا حصہ بنا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر سراج اجملی ،شعبہ ¿ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے قمر رئیس سلور جبلی آڈیٹوریم میں اردو اکادمی، دہلی کے زیر اہتمام سہ روز ہ قومی سمینار ’اردو ادب کا عصری منظرنامہ: اہمیت اور معنویت‘کے افتتاحی اجلاس میں اپنے کلیدی خطبے کے دوران کیا۔
اس سے قبل سمینار کے کنوینر پروفیسر احمد محفوظ نے مختصر تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مقالہ نگا ران کو سمینار کے بنیادی موضوع کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی گفتگو کسی ایک مخصوص عہد تک محدود نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ اس طرح بحث کی معنویت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اردو ادب کی تفہیم کے لیے وسیع تاریخی اور فکری تناظر میں غور و فکر ناگزیر ہے۔
اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شعبہ اردو، الہٰ آباد یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر علی احمد فاطمی نے کہا کہ حقیقی تخلیق محض اطلاعات پر نہیں بلکہ گہرے تجربات اور مشاہدات پر قائم ہوتی ہے جبکہ آج کی بیشتر تخلیقات معلومات کی بنیاد پر لکھی جا رہی ہیں۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت مالک اشتر نے نہایت خوش اسلوبی اور سلیقے کے ساتھ انجام دی۔
سمینار کے دوسرے دن منعقد ہونے والے پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر غضنفر، پروفیسر قمرالہدیٰ فریدی اور ایڈوکیٹ خلیل الرحمٰن نے مشترکہ طور پر کی جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاہنواز فیاض نے انجام دیے۔ اس اجلاس میں مختلف علمی و فکری موضوعات پر مقالے پیش کیے گئے۔
اس اجلاس میں مقالہ نگاروں کے طور پر پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر فضل اللہ مکرم، لئیق رضوی، ڈاکٹر محمد مقیم، ڈاکٹر آفتاب عالم اور ڈاکٹر رشید اشرف خان نے اپنے مقالا ت پیش کیے ۔ ایڈوکیٹ خلیل الرحمٰن نے سمینار میں پیش کیے گئے تمام مقالات کو فکری اعتبار سے پرمغز اور موضو عاتی لحاظ سے متنوع قرار دیا۔
اپنے صدارتی خطاب میں پروفیسر غضنفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اب تک یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ ’عصری ادب‘ یا ’معاصر ادب‘ کہتے وقت اس کا دائرہ ¿ کار کہاں تک پھیلا ہوا ہے۔ جب تک یہ حدبندی واضح نہیں ہوگی، اس موضوع پر بامعنی اور منظم گفتگو ممکن نہیں ہو سکے گی۔
ظہرانے کے بعد منعقد ہونے والے دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر فاروق بخشی اور ڈاکٹر زین رامش نے کی جبکہ نظامت ڈاکٹر محضر رضا نے کی۔ اس اجلاس میں اہم موضوعات پر مقالات پیش کیے گئے ۔اجلاس کے مقالہ نگاروں میں محمد سہیل احمد صابر، ڈاکٹر عبدللہ امتیاز، شعیب رضا فاطمی، ڈاکٹر شفق سوپوری اور ڈاکٹرجمیل اخترشامل تھے۔
اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسر فاروق بخشی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ایک باشعور انسان اپنی ذات کا احتساب کرتا ہے اسی طرح زبانیں اور ان کے ذریعے تخلیق پانے والا ادب بھی خود احتسابی کے عمل سے گزرتا ہے۔ سمینار میں ادبی و علمی حلقوں سے تعلق رکھنے والی متعدد ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر شمس اقبال، پروفیسر خالد اشرف، پروفیسر صغیر افراہیم، پروفیسر مظہر احمد، پروفیسر ابو شہیم خان، پروفیسر مشتا ق احمدقادری، پروفیسر احمد امتیاز، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر خان محمد رضوان، حبیب سیفی، ڈاکٹر ارشد ندوی،ڈاکٹر ابوظہیرربانی، ڈاکٹر خالد رضا، ڈاکٹر اظہار ندیم، ڈاکٹر نثار احمد خان، ڈاکٹر عمیر منظر، ڈاکٹر محضر رضا، ڈاکٹر شاہنواز فیاض ، ڈاکٹر جمیل اختر،ڈاکٹر امیر حمزہ ، ڈاکٹر ابراہیم افسر، ڈاکٹر حبیب الرحمن کے علاوہ ریسرچ اسکالرز کی کثیر تعداد شامل تھی

Next Post

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *