
نئی دہلی 2جنوری (میرا وطن )
بنگلہ دیش میں ہندوو ¿ں پر حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل اکالی دل کے صدر پرمجیت سنگھ پما نے اس معاملے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی حکومت اقلیتوں اور ہندوو ¿ں پر حملو ں کو روکنے میں ناکام ہو رہی ہے جس کی وجہ سے ایسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پما نے کہا کہ بنگلہ دیش میں ہندوو ¿ں کے خلاف تشدد میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ایک بار پھر نفرت نے جان لیوا موڑ لیا ہے۔ شریعت پور کے علاقے میں کھوکن چندر نامی ایک ہندو شخص کو ہجوم نے گھیر لیا۔ پہلے اسے بے دردی سے مارا گیا، پھر وار کیا گیا اور پھر اس پر پیٹرول ڈال کر اسے زندہ جلا نے کی کوشش کی گئی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے لوگ قانون کا خوف کھو چکے ہیں اور ہر روز اقلیتو ں پر حملہ کر رہے ہیں، جس سے جنگل راج قائم ہو رہا ہے۔
پما نے کہا کہ یہ بہت افسوسناک ہے کہ ہندوو ¿ں کو نشانہ بنانے والے کم از کم 42 حملے ہوئے ہیں جن میں 36 مکانات کو نذر آتش کرنا، کئی مندروں پر حملے اور زمینوں پر قبضے کے واقعات شامل ہیں۔ یونس کی عبوری سرکارکے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بنگلہ دیش میں ہجومی تشدد میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
پما نے بنگلہ دیش میں ہندوو ¿ں پر حملوں کی مذمت کی اور بنگلہ دیش کی سرکار پر زور دیا کہ وہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے اور ان کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ اگر بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر اس طرح کے حملے جاری رہے تو نیشنل اکالی دل بنگلہ دیش حکومت کے خلاف احتجاج کرے گی۔
No Comments: