
نئی دہلی، 22 فروری (میرا وطن)
وزیر اعلیٰ اور ریاستی ناموں کی اتھارٹی (ایس این اے) کی چیئرپرسن ریکھا گپتا کی قیادت میں کچھ پرا نے اور نئے دہلی میٹرو اسٹیشنوں کے نام تبدیل کیے گئے ہیں۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی ) کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) میں تجویز کردہ کچھ ناموں کو برقرار رکھا گیا ہے۔ انہوں
نے کہا کہ میٹرو اسٹیشن صرف ٹرانزٹ پوائنٹس نہیں ہیں بلکہ علاقے کی شناخت اور ثقافتی اہمیت کی بھی عکاسی کرتے ہیں، اس لیے حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے ہر نام پر غور کیا گیا۔
اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور ڈی ایم آر سی کی چیئرپرسن ریکھا گپتا نے کہا کہ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (ڈی ایم آر سی) کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ (ڈی پی آر) میں تجویز کردہ 21 اسٹیشنو ں کے ناموں کا جائزہ لینے کے بعد، اتھارٹی نے 12 ناموں کو برقرار رکھنے، سات میں ترمیم کرنے او ر دو اسٹیشنوں کے ناموں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ریکھا گپتا نے کہا کہ اسٹیشنوں کا نام تبدیل کرتے وقت کئی اہم باتوں کو مدنظر رکھا گیا تھا، بشمول علاقے کی مقامی شناخت، اس کی تاریخی، سماجی اور ثقافتی اہمیت، اور مقامی عوامی نمائندوں اور شہریوں سے موصول ہونے والی سفارشات۔ انہوں نے کہا کہ ناموں کا انتخاب اس طرح کیا گیا ہے کہ مسافروں کے لیے الجھن سے بچیں اور علاقے کی واضح جغرافیائی شناخت کو یقینی بنائیں۔ جہاں ضروری ہو، نیویگیشن کی سہولت کے لیے قریبی نمایاں علاقوں کے ناموں کو ملا کر مشترکہ ناموں کی بھی منظوری دی گئی۔
میٹرو اسٹیشن کے نام جو برقرار رکھے گئے ہیں وہ ہیں مجلس پارک، بھلسوا، حیدر پور بادلی موڑ، دیپالی چو ک، یمنا وہار، بھجن پورہ، کھجوری خاص، سورگھاٹ، جھروندھا ماجرا، براڑی، پشپانجلی، اور موج پور-بابر پور۔جبکہ نظرثانی شدہ اسٹیشنوں کے ناموں میں نارتھ پتم پورہ-پرشانت وہار (سابقہ پرشانت وہار)، جگت پور-وزیرآباد (سابقہ جگت پور)، نانک پیاو ¿-ڈیراول نگر (سابقہ ڈیراول نگر)، خانپور-وا ئیو سین آباد (سابقہ خانپور)، نانکسر-سونیا وہار (سابقہ شری وہار)، مے ویہار سونیا وہارپاکٹ -1)، اور منگل پور کلاں-ویسٹ انکلیو (سابقہ ویسٹ انکلیو) شامل ہیں۔
ان ناموں پر نظر ثانی کی گئی ہے تاکہ متعلقہ علاقوں کی مقامی شناخت کو ظاہر کیا جا سکے اور واضح سمتاتی اشا رے فراہم کیے جائیں۔ مکمل طور پر تبدیل شدہ ناموں میں حیدر پور گاو ¿ں (سابقہ نارتھ پتم پورہ) اور مدھوبن چوک (پیتم پورہ) شامل ہیں۔ علاقے کی مقامی شناخت کو ظاہر کرنے کے لیے اسٹیشن کا نام مکمل طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔
No Comments: