Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

عام بجٹ ملک میں صرف مہنگائی اور بے روزگاری بڑھانے والا: کجریوال

ملک کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار ہے، لیکن بجٹ میں روزگار فراہم کرنے کا کوئی بلیو پرنٹ نہیں

ہر سال دو کروڑ نوکریاں اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے وعدے کا وزیر اعظم حساب دیں:سنجے سنگھ
مرکزی سرکار نے ہر بار کی طرح اس بار بھی بجٹ میں پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا: بھگونت مان

نئی دہلی/پنجاب، یکم فروری(میرا وطن)
عام آدمی پارٹی نے اتوار کو پیش کیے گئے عام بجٹ میں روزگار بڑھانے، مہنگائی کم کرنے، بیرونِ ملک سے کالا دھن واپس لانے اور کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے جیسے اہم موضوعات پر مرکزی سرکارکی خاموشی پر سوال اٹھائے اور اس بجٹ کو مایوس کن قرار دیا۔ آپ کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے بجٹ پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی سرکارکا عام بجٹ ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھانے والا ہے۔ آج ملک کا سب سے بڑا مسئلہ روزگار ہے، لیکن اس بجٹ میں روزگار فراہم کرنے کا کوئی بلیو پرنٹ موجود نہیں ہے۔
اس موقع پر انہوں نے گوا کو نظرانداز کرنے پر بھی مرکزی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ گوا کے تین روزہ دورے پر آئے اروند کیجریوال نے کہا کہ ملک کا عام بجٹ آ چکا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اس بجٹ میں گوا کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔پورے بجٹ میں گوا کا لفظ تک موجود نہیں۔ مرکزی حکومت گوا کو بھول چکی ہے اور گوا کے لوگوں کے لیے اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ اگر قومی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بجٹ مہنگائی بڑھانے والا ہے۔ یہ مزید بے روزگاری پیدا کرے گا۔ آج نوجوانوں کو سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری اور مہنگائی کا ہے، لیکن روزگار دینے کا کوئی ٹھوس بلیو پرنٹ نہیں ہے۔ یہ بجٹ صرف اور صرف مہنگائی بڑھانے والا ہے۔
وہیں آپ کے سینئر لیڈر اور رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ مودی سرکارکا سب سے بڑا وعدہ یہ تھا کہ ہم ہر سال دو کروڑ نوکریاں دیں گے۔ اب جب حکومت کے بارہ سال پورے ہونے جا رہے ہیں تو اُن چوبیس کروڑ نوکریوں کا کیا ہوا؟ حکومت کو بتانا چاہیے کہ ملک کے نوجوانوں کو آگے روزگار دینے کے لیے وہ کون سی منصوبہ بندی کر رہی ہے؟ وزیر اعظم کو چوبیس کروڑ نوکریوں کا حساب دینا چاہیے اور یہ بھی بتانا چاہیے کہ روزگار دینے کے وعدے کا کیا انجام ہوا؟سنجے سنگھ نے سوال کیا کہ کسانوں کی فصل کی قیمت دوگنی کرنے اور کالا دھن واپس لانے کے وعدوں کا کیا ہوا؟ جو لوگ بھارت کے بینکوں کا پیسہ لوٹ کر بیرونِ ملک بیٹھے ہیں، اُن کا کیا بنا؟سرکار کو ان تمام سوالات کے جواب دینے چاہئیں۔ مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سرکارکو یہ بتانا چاہیے تھا کہ بجٹ کے ذریعے مہنگائی کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے۔ ٹیکس نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکار کبھی ٹیکس بڑھاتی ہے اور کبھی اچانک گھٹا دیتی ہے۔ سرکار نے ملک کی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، اب یہ پٹری پر کیسے آئے گی؟
ادھر آپ کے قومی میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے کہا کہ مودی حکومت کے بجٹ میں پنجاب کا نام تک نہیں ہے۔ سرحدی سلامتی کی ذمہ داری نبھانے والے پنجاب کے ساتھ مسلسل سوتیلا سلوک جاری ہے۔ سیلاب، سرحد اور سلامتی کے مسائل سے دوچار پنجاب مرکز سے خصوصی توجہ کی توقع رکھتا ہے، لیکن ہر بار اسے نظرانداز ہی کیا جاتا ہے۔ پنجاب کے ترقیاتی کاموں نے شاید کچھ لوگوں کی نیندیں اُڑا دی ہیں، اسی لیے ریاست کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ کیا سیاست کے لیے پنجاب ضر وری ہے، مگر بجٹ میں پنجاب کا ذکر تک نہیں؟
پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت سنگھ مان نے بھی بجٹ پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا بجٹ ایک بار پھر پنجاب کی امیدوں پر پورا نہیں اترا۔ اس بجٹ میں نہ تو کسانوں کے لیے ایم ایس پی پر کوئی ٹھوس اعلان کیا گیا ہے اور نہ ہی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، صنعت یا ٹیکس میں کسی قسم کی راحت دی گئی ہے۔ پنجاب کی معاشی مضبوطی کے لیے بھی اس بجٹ میں کوئی پختہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی پنجاب اور پنجابیوں کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا گیا ہے۔ پنجا ب کے لوگ محنتی اور پُرجوش ہیں۔ ہم سب مل کر پنجاب کو دوبارہ مضبوطی سے اپنے پیروں پر کھڑا کریں گے۔
آپ کے رہنما جاسمن شاہ نے کہا کہ مودی سرکار کا 2026کا بجٹ اب تک کا سب سے بے رنگ اور بے جوش ثابت ہوا ہے۔ مختصراً کہا جائے تو سرکار بڑے انفراسٹرکچر کنٹریکٹس پر خرچ کرنے کے لیے سترہ لاکھ کروڑ روپے کا قرض لے گی، جو تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ یہ کنٹریکٹس عموماً بی جے پی کے منظورِ نظر اور چندہ دینے والوں کو ہی ملتے ہیں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *