
نئی دہلی، 22 جنوری (میرا وطن)
ساہتیہ اکادمی کے زیراہتمام اردو کے ممتاز دانشور، نقاد، ماہر لسانیا ت ، فکشن نگار، شاعر و ادیب شمس الرحمن فاروقی کی ادبی خدمات پر جمعرات کواکادمی آڈیٹوریم میں یک روزہ سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت ممتاز اردو ادیب و نقاد پروفیسر علی احمد فاطمی نے کرتے ہوئے کہا کہ شمس الر حمن فاروقی ہمہ صنف استاد تھے۔ وہ کسی تحریک و تنظیم سے وابستہ ہوئے بغیر خود ایک تحریک و تنظیم بن گئے۔ خود ایک دبستان بنے جس نے پوری ایک نسل کی ذہن ساز ی کی اور ادب فہمی و شعر فہمی کے نئے ابعاد قائم کیے۔ فاروقی صاحب کا دائرہ ¿ مطالعہ فکر و نظر کی تفہیم و تنقید انگریزی، فارسی، فرانسیسی تک پھیلا ہوا تھا۔
اپنے افتتاحی کلمات میں ساہتیہ اکادمی اردو مشاورتی بورڈ کے کنوینر ممتاز شاعر چندربھان خیال نے کہا کہ شمس الرحمن فاروقی اردو ادب کا ایک روشن باب، ایک درخشاں ستارہ، جدیدیت کے علمبردار اور تنقید کے ساتھ ساتھ تخلیق کی بے پناہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ تمام عمر پوسٹل ڈپارٹمنٹ میں کام کر نے کے باوجود انھوں نے اردو زبان و ادب سے والہانہ محبت کی۔
اس موقع پر کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے انجمن ترقی اردو (ہند) کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہر فاروقی نے شمس الرحمن فاروقی کے حوالے بہت سی ذاتی باتیں بتاتے ہوئے ایسے اردو انگریزی مضامین کی ایک پوری فہرست کی نشان دہی کی جو نہ تو ان کی زندگی میں شائع ہوئے اور نہ ہی ان کے انتقال کے بعد وہ زیورِ طباعت سے آراستہ ہوسکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جلد از جلد ان کی اشاعت عمل میں آئے۔ پروگرام کی ابتدا میں ساہتیہ اکادمی کے ایڈیٹر (ہندی) انوپم تیواری نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور فاروقی صاحب کے حوالے سے چند نکات پر روشنی ڈالی۔
آج کے پہلے تکنیکی اجلاس کی صدارت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ¿ اردو کے پروفیسر احمد محفوظ نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ فاروقی صاحب ان چند شخصیات میں شامل ہیں جو علم و ادب کی دنیا کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے ہوئے عجز اور انکسار کا اظہار کرتے رہتے تھے، یہ ہم سب کے لیے سبق آموز ہے۔ اس اجلاس میں اقبال حسین نے ’شمس الرحمن فاروقی کی تنقیدی بصیرت : پس نوآبادیاتی مطالعہ‘ موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا جبکہ کرناٹک یونیورسٹی، دھارواڑ سے تشریف لائیں ڈاکٹر شکیلہ بانو گوری خان نے ’شمس الرحمن فاروقی کی افسانہ نگاری : تہذیب اور تاریخی فکشن کا بیانیہ‘ کے عنوان سے مقالہ پڑھا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ ¿ اردو کے پروفیسر سراج اجملی نے ’شمس الرحمن فاروقی میرے مربی اور استاد‘ کے عنوان سے اپنا مقالہ پیش کیا۔
دوسرے اجلاس کی صدارت جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کیا۔ انھوں نے کہا کہ فاروقی ادبی دیانت داری کے قائل تھے۔ ان سے اختلاف کرنے والے بھی ان کی علمیت کا اعتراف کرتے تھے۔ اس اجلاس میں دو مقالے پیش کیے گئے۔ پہلا مقالہ کانپور سے تشریف لائے ڈاکٹر جگدمبا دوبے نے ’شمس الرحمن فاروقی‘ کے عنوان سے پیش کیا جبکہ دوسرا اور پروگرام کا آخری مقالہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ ¿ اردو کے صدر پروفیسر کوثر مظہری نے ’کیا نقاد کا وجود ضروری ہے : فاروقی بازدید‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ پروفیسر مظہری نے اپنے پُرمغر مقالے میں کہا کہ فاروقی صاحب نے اس نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر نقاد میں انکسار نہیں تو وہ اچھا نقاد نہیں ہوسکتا۔ پروگرام کے آخر میں چندربھان خیال نے تمام مقالہ نگاروں، صدور اور سامعین کا شکریہ ادا کیا جن کی شمولیت کی وجہ سے ساہتیہ اکادمی کے ذریعہ ایک کامیاب سمپوزیم کا انعقاد ممکن ہوسکا
No Comments: