
نئی دہلی،27جنوری(میرا وطن)
شمالی دہلی میں تقریباً 90 لاکھ کی آبادی کو بجلی فراہم کرنے والی سرکردہ کمپنی ٹاٹاپاور۔ ڈی ڈی ایل اس سمت میں کافی سنجیدہ ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں حال ہی میں کمپنی کے حق میں ایک اہم فیصلہ سنا تے ہوئے بجلی چوری کے ملزم کے خَاف1.88 لاکھ روپے کا جرمانہ اور 6 ماہ کی سخت قید کی سزا سنائی ہے۔
یہ معاملہ 2019 میں سامنے آئی بجلی چوری کے ایک واقعے سے متعلق ہے جس میں کمپنی نے شکایت ملنے پر 3 جون 2019 کو سلطان پوری، دہلی کے کنور لال کے احاطے کا معائنہ کیا۔ اس جانچ کے دو ران پتہ چلا کہ وہ گھریلواستعمال کے لیے ٹاٹاپاور۔ڈی ڈی ایل کے کھمبے سے غیر قانونی تاروں کے ذ ریعے بجلی چوری کر رہے تھے۔ ان کے احاطے میں کوئی بجلی میٹر نہیں تھا اوراس طرح انہیں بجلی چوری کا مرتکب پایا گیا اور ان کے خلاف الیکٹرسٹی ایکٹ، 2003 کی دفعہ 135 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ مذکورہ احاطے میں کل 9.1 کلوواٹ کا کنیکٹیڈ لوڈ دیکھا گیا اور کل 1 لاکھ 88 ہزار772 روپئے کا بجلی بل جاری کیا گیا۔
خصوصی عدالت روہنی کے ایڈیشنل سیشن جج پرشانت کمار نے جے جے کالونی سلطان پوری کے رہنے والے کنور لال کو گھریلو استعمال کے لیے بجلی چوری کا مجرم پایا۔ اس معاملے میں دائر سبھی متعلقہ دستاو یزات کی جانچ اور دیگر شواہد کی بنیاد پرعدالت نے کنور لال کو الیکٹرسٹی ایکٹ، 2003 کی دفعہ 135 کے تحت قصوروار پایا۔ معاملے کی سماعت کے بعد ملزم کو 16 جنوری 2026 کو سزا سنائی گئی۔
اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹاٹاپاور۔ ڈی ڈی ایل کے کمرشیل چیف نے کہا کہ اس طرح کے فیصلے راجدھانی میں نظم و ضبط کے ساتھ بجلی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ہم وقتاً فوقتاً اپنے صار فین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی طریقوں سے پرہیز کریں اور ذمہ دار صارفین بنیں۔
No Comments: