
نئی دہلی ،12 فروری (میرا وطن)
جمعیت علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے وندے ماترم کے سلسلے میں جاری کردہ سرکلر کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ اقد ا م دستور ہند کی دفعہ 25 کے تحت حاصل مذہبی آزادی کو سلب کرنے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئین ہند میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے کا ناقابلِ تنسیخ حق فراہم کیا گیا ہے۔ اس لیے کسی کے مذہبی عقیدہ کے خلا ف اسے مخصوص نظم یا کلام کو پڑھنے پر مجبور کرنا آئین کے منافی ہے۔انہوں نے بتایا کی کہ’ وندے ماتر م‘ کے مکمل متن خصوصاً چوتھے اور پانچویں بند میں مورتی وندنا اور بعض ہندو دیوی دیوتاﺅں کا ذکر موجود ہے۔ اسلامی عقیدہ توحید کے پیش نظر مسلمان غیر اللہ کی تعظیم یا پرستش نہیں کرسکتا اور نہ اس کی عبادت کا اظہار کرسکتا ہے، ایسا کرنے سے اس کا ایمان سلب ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علماءہند فی نفسہ اس نظم کی مخالف نہیں ہے ، اگر اکثریتی مذہب کے لوگ اسے پڑھنا چاہیں ، تو ان کو اختیار ہے، ہم ان کی راہ میں نہیں آتے لیکن اسے تمام شہریوں کے لیے لازم قرار دینا یا اسکولوں میں کمسن بچوں کو اس کے پڑھنے پر آمادہ یا مجبور کرنا مذہبی آزادی پر قدغن لگانے کے مترا دف ہوگا۔ ہندوستان ایک تکثیری اور کثیر المذاہب ملک ہے جہاں آئین کی بالادستی اور’کثرت میں وحدت ، کا اصول ہی قومی یکجہتی کی بنیاد ہے۔ اس بنیاد کو کمزور کرنے والا کوئی بھی اقدام ملک کے مفاد میں نہیں ہوسکتا۔
مسلمانانِ ہند کا یہ متفقہ اور دوٹوک موقف ہے کہ مذہبی آزادی کے منافی کسی بھی فیصلے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہم مرکزی سرکار سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئینی تقاضوں، عدالتی نظائر اور ملک کے ہمہ رنگ سماجی ڈھانچے کو پیش نظر رکھتے ہوئے مذکورہ سرکلر پر فوری نظرِ ثانی کرے، تاکہ ملک میں مذہبی آزادی، آئینی وقار اور سماجی ہم آہنگی برقرار رہ سکے۔ جہاں تک وطن سے محبت کا تعلق ہے ، تو یہ ہمارا دینی تقاضا ہے، ہم وطن سے ہمیشہ محبت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے ، لیکن کوئی ایسالفظ قابل قبول نہیں جو عبادت کے زمرے میں آتا ہے جس کا حق ہمیں ہمارے ملک کے آئین نے دیا ہے اور جس کی بنیاد پر یہ ملک شیشہ پلائی ہوئی دیوارکی طرح متحد ہے
No Comments: