
نئی دہلی، 29جنوری(میرا وطن)
عام آدمی پارٹی نے مختلف اسمبلی حلقوں کے راشن دفاتر کو کئی کلو میٹر دور ایک ہی جگہ منتقل کرنے کے بی جے پی سرکار کے حکم پر سخت حملہ کیا ہے۔ آپ کے رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ بی جے پی سرکار نے مختلف اسمبلی حلقوں میں قائم 61راشن دفاتر بند کر دیے ہیں۔ اس سے دہلی میں ایک بار پھر راشن مافیا راج لوٹ آیا ہے۔ راشن ڈیلروں کا حکومت کے تُغلقی فرمان کا خیر مقدم کرنا بی جے پی اور ان کے درمیان گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔ اب راشن کارڈ ہولڈروں کو اپنے کام کے لیے کئی کلو میٹر دور جانا پڑے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بی جے پی سرکارنے یہ حکم واپس نہیں لیا تو عام آدمی پارٹی بڑا احتجاجی تحریک چلائے گی۔
جمعرات کو آپ ہیڈکوارٹر میں رکن اسمبلی وشیش روی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کلدیپ کمار نے کہا کہ دہلی میں جب سے بی جے پی کی سرکاربنی ہے، تب سے یہ عوام پر ایک آفت کی طرح ٹوٹ پڑی ہے۔ چاہے وہ کجریوال سرکار کے بنائے گئے 250سے زائد محلہ کلینکوں کو بند کرنا ہو، جہا ں لوگوں کو اپنے محلے میں گھر کے قریب ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی سہولت ملتی تھی، یا پھر دہلی میں غریبوں کی جھگی جھونپڑیوں اور ریہڑی پٹریوں کو اجاڑنے کا معاملہ ہو، بی جے پی سرکار مسلسل دہلی کی عام اور غر یب عوام پر آفت بن کر ٹوٹ رہی ہے۔
کلدیپ کمار نے بتایا کہ دہلی کی تمام 70اسمبلیوں میں راشن کارڈ کے دفاتر موجود تھے، جہاں عوام نیا راشن کارڈ اپلائی کر سکتی تھی، نام میں اصلاح کروا سکتی تھی اور اگر کوئی دکاندار راشن نہ دے تو شکایت در ج کرا سکتی تھی۔ یہ سہولت انہیں اپنی ہی اسمبلی کے اندر قریب ترین مقام پر دستیاب تھی، جسے راشن د فتر یا ایف ایس او آفس کہا جاتا ہے۔ لیکن بی جے پی کے ایک حکم نے دہلی میں ہلچل مچا دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ قرول باغ میں پچھلے 30سے 40برسوں سے ٹینک روڈ، گلی نمبر 10، ماتا رامیشوری نگر میں را شن دفتر چل رہا تھا۔ اوکھلا اسمبلی حلقہ کے تحت نئی بستی واقع راشن دفتر کو 7سے8کلو میٹر دور تغلقہ آباد میں منتقل کردیا گیا جبکہ اس دفتر کوتقریباً 15سال پہلے اوکھلا صنعتی ایریاسے اوکھلا حلقہ میںدہلی سرکار کے فشری ڈیپارٹمنٹ کی بلڈنگ میں منتقل کیا گیا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ کونڈلی اسمبلی کا راشن دفتر کلیان واس میں تھا، جسے وہاں سے 15کلو میٹر دور دیانند وہار منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح تریلوک پوری کا راشن دفتر پہلے تریلوک پوری میں تھا، اب دیانند وہار میں ہوگا۔گاندھی نگر کا دفتر گاندھی نگر میں تھا، وہ بھی اب دیانند وہار منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح سلطان پوری، کراڑی اور منگول پوری کے راشن دفاتر کو شالیمار باغ منتقل کر دیا گیا ہے۔ صدر بازار اسمبلی کا دفتر گلابی باغ میں تھا، جسے اب کشمیری گیٹ منتقل کر دیا گیا ہے۔
کلدیپ کمار نے کہا کہ شمال مشرقی دہلی کی اسمبلیاں،کراول نگر، گوکل پوری، سیماپوری، سیلم پور اور مصطفیٰ آباد،سب کے دفاتر ہٹا کر نند نگری بھیج دیے گئے ہیں۔ دہلی میں کئی راشن دفاتر کو ان کی اسمبلیو ں سے ہٹا کر ایک ہی جگہ 10-10اسمبلیوں کے دفاتر بنا دیے گئے ہیں۔ کیا کوئی غریب آدمی اپنی شکایت لے کر 8سے 10کلو میٹر دور جا سکتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی سرکار چاہتی ہے کہ دہلی کے راشن کارڈ ہولڈروں کی شکایات نہ سنی جائیں اور ان کا حل نہ ہو سکے، اسی لیے راشن دفاتر منتقل کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک تُغلقی فرمان ہے، جس کے تحت 70جگہوں سے دفاتر ہٹا کر صرف 8 تا 10جگہوں پر قائم کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے مطالبہ ہے کہ اس حکم کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور راشن دفاتر کو دوبارہ اپنی اپنی اسمبلیوں میں منتقل کیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو عام آدمی پارٹی بڑا احتجاج کرے گی۔
No Comments: