Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

اختلافات کے باوجود رشتے جوڑنے میں یقین رکھتے تھے اسد رضا

غالب اکیڈمی کے تعاون سے عبارت پبلیکیشن نے کیا تعزیتی جلسے کا اہتمام

نئی دہلی،11فروری(میرا وطن )
سینئر صحافی، شاعر اور طنز و مزاح نگار اسد رضا کی رحلت پر غالب اکیڈمی میں تعزیتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صحافت، ادب اور سماجی حلقوں کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی اور مرحوم کی صحافتی، ادبی اور انسانی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس نشست کا اہتمام عبارت پبلی کیشن نے غالب اکیڈمی کے اشتراک سے کیا تھا۔
جلسے کا آغاز ضمیر ہاشمی کی تلاوتِ قرآن مجید اور منظوم ترجمے سے ہوا۔ انہوں نے اسد رضا کے صحافتی سفر کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ’سوویت جائز‘ اور ’ہمارا قدم‘ سے وابستگی کے بعد 1991 میں ’را شٹریہ سہارا‘ سے منسلک ہوئے اور گروپ ایڈیٹر تک کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کے ڈیڑھ درجن کے قریب شعری و نثری مجموعے شائع ہوئے۔
وزارت اطلاعات و نشریات سے وابستہ رہے عربی زبان کے اسکالر عبید الرحمن نے کہا کہ اسد رضا عمرہ کی ادائیگی کے بعد اسلام کے پیغامِ مساوات پر کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے، مگر مہلت نہ مل سکی۔ اس کار خیر کی ان کی نیت یقینا اللہ کے یہاں قبول ہو گی۔ ٹی وی چینل عالمی سہارا کے سبکدوش ایڈیٹر لئیق رضوی نے اسد رضا کی سادگی اور انکساری کا ذکر کرتے ہوئے ان کی غیر مطبوعہ تحریروں کو محفوظ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سینئر صحافی اور سماجی خدمت گار فرحت رضوی نے کہا کہ اسد رضا اختلاف کے باوجود رشتوں کو جوڑنے والے انسان تھے۔ معروف مبصر اور تجزیہ نگار سہیل انجم نے کہا کہ جس طرح آج مرحوم کے اوصاف بیان کیے جا رہے ہیں,کاش ان کی خدمات کا بھرپور اعتراف ان کی زندگی میں ہوتا۔ معروف کالم نو یس اور خاکہ نگار معصوم مرادآبادی نے کہا کہ مترجم کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنے والے اسد رضا نے صحافت، شاعری اور طنز و مزاح کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے اردو کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں اسد رضا کے کردار کو سراہا۔
اس موقع پردیگر مقررین میں فیروزبخت احمد، شمع افروز زیدی، شیخ نگینوی، جمشید عادل علیگ، شباب انو ر، خالد رضا خاں، معین شاداب، ڈاکٹر یامین انصاری، ڈاکٹر فرمان چودھری، شاہ نواز احمد صدیقی اور آ سیہ خان وغیر ہ ، نے مجموعی طور پر اسد رضا کی علمی بصیرت، تجزیہ نگاری، ادبِ اطفال سے وابستگی، نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی، خیرخواہی اور ان کی خوش مزاج شخصیت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقر رین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی غیر مطبوعہ تحریروں کو محفوظ کر کے منظرِ عام پر لایا جانا چاہیے۔ا سد رضا کی صاحبزادی ثنا اسد نے کہا کہ ان کے والد کی اصل پہچان ان کی انسان دوستی اور رشتوں کی پاسداری تھی۔
تعزیتی اجلاس میں مرحوم کےاہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کے علاوہ متعدد اہم شخصیات شریک تھیں، جن میں قنبر رضا نقوی، ثمر رضا نقوی، سید عباس رضا چھولسی، گلنار زہری، سید خرم رضا، اظہارالحسن، ممتاز احمد، مفیض الرحمن، جمیل اختر، انس فیضی، شاکر دہلوی، ترنم جہاں، شبنم اور کشفی شمائل کے نام قابلِ ذکر ہیں۔آخر میں جلسے کے کنوینر سلام خاں نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے اسد رضا کی رحلت کو ذاتی اور اجتما عی نقصان قرار دیا۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *