
نئی دہلی، 18 فروری(میرا وطن)
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بی جے پی کی طرف سے ایک خا تو ن وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود گزشتہ ایک سال سے ان کے دور حکومت میں خواتین کو نظر انداز کیا گیا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ دہلی سرکار کی بے عملی کی وجہ سے، دہلی ہائی کورٹ نے بدھ کودہلی سرکار کی سرزنش کرتے ہوئے پوچھا کہ دہلی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن کا عہدہ اور کمیشن کے اندر کئی دیگر عہدے جنوری 2024 سے خالی کیوں پڑے ہیں، حالانکہ یہ ایک بہت اہم کمیشن ہے۔
ریاستی صدر نے کہا کہ جنوری 2024 سے دہلی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کا عہدہ اور کمیشن میں کئی دیگر اہم عہدے خالی ہونے کی وجہ سے دہلی کی خواتین کو خواتین کو ہراساں کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے معاملات کا حل نہ ہونے کی وجہ سے ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تاہم، نہ تو پچھلی آپ سرکاراور نہ ہی موجودہ بی جے پی سرکارنے دہلی خواتین کمیشن میں خالی آسامیوں کو بھرنے پر توجہ نہ دے کر اپنی خواتین مخالف ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ حال ہی میں جنوری میں دہلی سے سیکڑوں خواتین اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں جو دہلی کی بی جے پی سرکاراور مرکزی سرکارکے خواتین کے تئیں لاتعلق رویہ کو ظاہر کرتا ہے۔ دہلی میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور جنسی استحصال عام آدمی پارٹی کی سرکار سے لے کر بی جے پی کی سرکار تک بڑھتے رہے ہیں، لیکن آپ اور بی جے پی کی حکومتیں خاموش بیٹھی رہیں۔
No Comments: