Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ایران کے ساتھ ہندوستان کے رسمی سفارتی تعلقات 75سال پرانے ہیں:سیبی جارج

ہمارے عوام سے عوام کے تعلقات اور ثقافتی روابط ہمارے جدید دو طر فہ تعلقات کی مضبوط بنیاد ہیں

ہندوستان کے ایران سے تعلقات ہزاروں سالہ مشترکہ تار یخ اور تہذیب پر مبنی ہیں :ڈاکٹر محمد فتح علی
اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پردی شنگریلا ایروز ہو ٹل میں تقریب منعقد

نئی دہلی ،10فروری (میرا وطن)
ایران کے ساتھ ہندوستان کے رسمی سفارتی تعلقات 75سال پرانے ہیں، ایران جمہوریہ بننے کے بعد ہندوستان کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک ہے ۔ سال 2025میں سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار
مہما ن خصوصی ہندوستان کے سکریٹری (مغرب) وزارتِ خارجہ، سیبی جارج نے دی شنگریلا ایروز ہو ٹل منعقدہ ایک پر وقار تقریب میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں حکومت ہند اور ہندوستانی عوام کی جا نب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام اور حکومت کو ایران کے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
اس موقع پر سیبی جارج نے کہا کہ ہمارے عوام سے عوام کے تعلقات اور ثقافتی روابط ہمارے جدید دو طر فہ تعلقات کی مضبوط بنیاد ہیں۔ ہم آرٹ، فن تعمیر، ادب، موسیقی اور کھانوں کو متاثر کرنے والے ا یک بھرپور ثقافتی ورثے کا اشتراک کرتے ہیں، جو ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک اٹوٹ اور پائیدار رشتہ قائم کرتے ہیں۔ شاعر رومی، سعدی اور حافظ نے ہندوستانی ادبی روایات پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ اسی طرح ہندوستانی شاعروں نے فارسی میں وسیع شاعری اور غزلیں لکھیں۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے فن تعمیر اور دستکاری کی روایات نے ایک دوسرے کو متاثر کیا ہے ۔ فارسی کے مسلسل اثر و رسوخ اور بھرپور ورثے کی وجہ سے حکومت ہند نے اسے اپنی نئی تعلیمی پا لیسی 2020میں کلاسیکی زبانوں میں سے ایک کے طور پر شامل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سفار ت کار کے طور پر، میں نے اپنی زندگی کے دو سال ایران میں گزارے ، اس خوبصورت ملک کے طول و عر ض کا سفر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ذہن میں کئی شہر آتے ہیں جن کی شروعات اصفہان سے ہوتی ہے ۔ ایک کہا وت ہے : ‘اصفہان نصف جہاں’ اگر آپ نے اصفہان کو دیکھا ہے تو آپ نے آدھی دنیا دیکھی ہے ۔
مسٹر جارج نے مجھے تہران اور زاہدان کے گوردوارے یاد ہیں۔ آپ کے لیے یہ دلچسپ ہوگا کہ آپ تاریخ کو دیکھیں اور دیکھیں کہ زاہدان کو یہ نام کیسے ملا۔ اسے ‘پاک والوں کا شہر’ کہا جاتا ہے ۔ یہا ں سکھ گردوارہ ہے ۔ بندر عباس میں ہندو مندر بھی ہے ۔ میں نے اس کا دورہ کیا۔ لہٰذا، ہندوستان اور ایران کے درمیان بہت زیادہ رابطہ ہے جسے مزید تلاش کرنے کے قابل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کثیرالجہتی تنظیموں بشمول برکس اور ایس سی او میں قریبی تعاون کرتے ہیں۔ ہندوستان نے ان دونوں تنظیموں میں ایران کی رکنیت کی حمایت کی تھی۔ چونکہ ہندوستا ن اس سال برکس کا سربراہ ہے ، ہم ایران کے ساتھ قریبی تعاون کے منتظر ہیں۔ ہمیں برکس شیرپا کی پہلی میٹنگ میں ایرانی مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے خوشی ہے اور ہم ملاقاتوں کے دوران ان کے ساتھ نتیجہ خیز دو طرفہ مصروفیات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور ایران کے درمیان طلبائ، فنکار وں، کھلاڑیوں، اسکالروں اور سیاحوں کے تبادلے بڑھ رہے ہیں۔
اس موقع پرایران کے ہندوستان میں نئے سفیر ڈاکٹرمحمد فتح علی نےہند تعلقات کی گیرائی اور گہرائی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جمہوریہ ¿ اسلامی ایران اور ہندوستان کے تعلقات ہزاروں سالہ مشترکہ تار یخ اور تہذیب پر مبنی ہیں اور مضبوط ثقافتی، تجارتی اور انسانی روابط سے جڑے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر محمد فتح علی نے کہا کہ یہ شاندار ورثہ دو طرفہ تعاون کے فروغ کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہے ۔ چاہ بہا ر بندرگاہ منصوبہ، جو ہمارے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کی علامت ہے ، اقتصادی تر قی اور علاقائی رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ 2025میں ایران- ہندوستان مشترکہ اقتصا دی کمیشن کے بیسویں اجلاس کا انعقاد اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے دونوں فریقوں کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے ۔
ڈاکٹر علی نے کہا کہ اس کے علاوہ، ایران اور ہندوستان علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں میں قریبی تعا ون رکھتے ہیں۔ ہندوستان کی برکس کی صدارت اس فریم ورک کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے آج ایران کے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی سینتالیسویں سالگرہ کے موقع پر آپ سب کے درمیان موجود ہونے پر بے حد مسرت اور اعزاز حاصل ہورہا ہے ۔ میں میزبان ملک کے معزز حکام، سفیروں، سفارتی مشنز کے سربراہان اور تمام معزز مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔
ڈاکٹر علی نے کہا کہ ایران کا اسلامی انقلاب اس قوم کے عزم اور ارادے کا اظہار تھا جس نے 1979 میں اللہ پر ایمان، امام خمینیؒ کی قیادت، اپنی تاریخی شناخت اور آزادی کی خواہش کے سہارے ایک ایسے تابع نظام کو شکست دی جو اپنے عوام کی خواہشات پر غیر ملکی مفادات کو ترجیح دیتا تھا۔ یہ انقلاب محض اقتدار کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ قومی خودمختاری، عوامی حکمرانی اور ایرانی عوام کی عزت و وقار اور آزا دی کی بحالی کا آغاز تھا۔ ابتدا ہی سے جمہوریہ ¿ اسلامی ایران نے آزادی، خودمختاری، انصاف اور تسلط کے انکار کی بنیاد پر اپنا راستہ متعین کیا اور بے شمار دبا ¶ اور چیلنجز کے باوجود استقامت اور استحکام کے ساتھ اس راہ پر گامزن رہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران جمہوریہ ¿ اسلامی ایران نے اندرونی صلاحیتوں، سماجی اتحاد اور ہنرمند و باصلاحیت انسانی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کی ہے ۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں علم کے فروغ میں ایران کا مقام مسلسل بہتر ہوا ہے ، علم پر مبنی کمپنیوں میں اضافہ ہوا ہے اور نئی ٹیکنالوجیز اور صحت کے شعبے میں اہم کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔
ڈاکٹر فتح علی نے کہا کہ معاشی اور پیداواری شعبوں میں، ناجائز پابندیوں اور عالمی معاشی مشکلات کے باوجود، ایران نے صنعتی پیداوار میں اضافہ، غیر تیل برآمدات میں ترقی اور ایک زیادہ متنوع اور مضبوط معیشت کی جانب واضح پیش رفت دیکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سماجی خدمات اور بنیادی ڈھانچے کے میدان میں، صحت کی سہولیات کی توسیع، ادویات کی تیاری میں وسیع خود کفالت، قومی ہا ¶سنگ منصوبوں میں پیش رفت اور مواصلاتی انفراسٹرکچر کی ترقی نے شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔تقریب میں مختلف ممالک کے سفارتکاروں کے علاوہ دانشور حضرات سمیت علماءکرام نے شرکت کی ۔

Next Post

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *