
نئی دہلی، یکم فروری (میرا وطن)
اردو صحافت کے سینئرقلمکار،معروف کالم نگار،روزنامہ راشٹریہ سہارا کے سابق گروپ ایڈیٹر ، مشہور صحا فی اور معروف شاعر اسد رضا کا اتوار کویہاں ایک پرائیویٹ اسپتال میں تقریبا 74 سال کی عمر میں انتقا ل ہوگیا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق پسما ندگان میں ایک بیٹا اوردو بیٹی ہیں۔ ان کی پیدائش 2 جنوری 1952 کو ضلع بجنور (یوپی) ہوئی تھی۔ ان کے والد ظفر علی نقوی ریٹائرڈ گزیٹیڈ آفیسر تھے۔ ان کی تد فین ان کے آبائی وطن بجنور میں ہوگی۔ سردی اٹیک کی وجہ سے انہیں ایک پرائیویٹ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا جہاں آج صبح کا ان کا انتقال ہوگیا۔
اسد رضا نے دہلی میں اپنا کیریئر سوویت جائزہ سے شروع کیا تھا جو سوویت سفارت خانے کا ترجمان تھا ۔ سوویت جائزہ بند ہونے کے بعد کچھ عرصہ ہفت روزہ ” نئی دنیا” سے وابستہ رہے ۔اسد رضا نے 1991 میں را شٹریہ سہارا جوائن کیا تھا جہاں سے وہ گروپ ایڈیٹر کی حیثیت سے سبکد و ش ہوئے تھے ۔ ان کا اصل نا م سید اسد رضا نقوی تھا لیکن اسد رضا کے نام سے لکھتے تھے اور اسی نام سے مشہور بھی تھے۔ انہوں نے مضامین کے شاعری بھی کرتے تھے خاص طور پر مزاحیہ اور طنزیہ شاعری کرتے تھے۔ ان کے مطبوعات میں (1) آئینے احساس کے (شعری مجموعہ ) (2) شوخی قلم ( طنزیہ و مزاحیہ مضامین کا مجموعہ ) (3) چاند نگر کی سیر (بچوں کے لیے با مقصد مزاحیہ کہانیوں کا مجموعہ) (4) شہر احساس (شعری مجموعہ ) (5) ادبی اسپتال (مزاحیہ و طنزیہ مضامین ) شوشے (طنزیہ ومزاحیہ مضا مین کا مجموعہ ) نے متوں کی سرکار (بچوں کے لئے ) شامل ہیں۔ ان کی متعدد کتابوں پر بہار اور اتر پردیش اردو اکیڈ می نے انعام سے نوازا تھا۔
ان کی تخلیقات آل انڈیا ریڈیو، دور درشن، برطانوی ریڈیو، ای ٹی وی وغیرہ سے تخلیقات نشر و ٹیلی کا سٹ ہوتی رہتی ہیں ، قلم یہ کیسا انصاف کے لیے نغمہ نگاری ، لندن، بر کم، تھران، شیر از لکھنو ، دہلی، بھوپا ل، حیدر آباد، بنگور، انبالہ ( ہریانہ) بھنڈار لدھیانہ ( پنجاب ) وغیرہ کے 1000 سے زائد مشاعروں وادبی محفلوں میں شرکت۔ اردو، ہندی دانگریزی میں دو ہزار کالم و مضامین شائع ہوئے۔ عالی سہاراٹی وی چینل پر سیاسی مبصر کے طور پر مدعو کیا جاتا ہے۔
سجاد حیدر یلدرم ایوارڈ نہ ہور ضلع بجنور جلا بزم شعرائے میثم سری ( مراد آباد ) بہ ساحر لدھیانوی ایوارڈ الدھیانہ : مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ برائے شاعری ( مراد آباد ) باید اندرا گاندھی ایوارڈ اعزازت کے ساتھ بہار اردو اکادمی اور دہلی اردو اکادمی سے انعام یافتہ تھے۔اس کے علاوہ برائے شاعری، ہندی پریشد وردھمان کالج بجنور وغیرو نے انعامات و اعزازات سے نوازا تھا۔
مرحوم طویل اپنے مدلل، بے باک اورسنجیدہ کالموں کے ذریعے سماجی،سیاسی اور قومی مسائل پرمو ¿ثر اندا ز میں آوازبلند کرتے رہے، انکی تحریریں سنجیدگی،حق گوئی اورصحافتی دیانت کی روشن مثال سمجھی جاتی تھیں ۔ان کے انتقال پرصحافی برادری، ادبی شخصیات اور سماجی حلقوں نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے اردو صحافت کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیاہے۔اللہ تبارک تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفر ت فرمائے، انکے درجات بلند کرے اورپسماندگان کوصبرِ جمیل عطافرمائے,آمین یاربّ العالمین۔
No Comments: