Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب بچوں کا مستقبل پوری طرح تاریک

ریکھا گپتاسرکار 10ہزار خالی آسامیوں کو فوری طور پر پر کرنے کا عمل شروع کرے:یادو

نئی دہلی، 29 جنوری(میرا وطن)
پردیش کانگریس صدر دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں مستقل اساتذہ کی شدید کمی کی وجہ سے، دہلی کا تعلیمی نظام مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے، کیونکہ سرکاری اسکول مہمان اور کنٹریکٹ پر اسا تذہ کے کندھوں پر چل رہے ہیں۔ 80ہزار مستقل اساتذہ کی ضرورت کے باوجود سرکاری اسکولوں میں صرف 44ہزارمستقل اساتذہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ریکھا گپتا سرکار کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب بچوں کا مستقبل پوری طرح سے تار یک ہے کیونکہ دہلی سرکاراپنے اسکولوں میں مستقل اساتذہ کی خالی آسامیوں کو بھرنے کے لیے حساس نہیں ہے۔
ریاستی صدرنے کہا کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے 18 لاکھ سے زیادہ طلباءکے لیے 70ہزاراساتذہ ہیں، جن میں سے صرف 44ہزار مستقل اساتذہ ہیں، اور 10ہزار تدریسی عہدے خالی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تشویشناک بات ہے کہ دہلی کی ریکھا گپتا سرکار نے دہلی کے تعلیمی نظام کو تقریباً 23سے24ہزار گیسٹ اور کنٹریکٹ اساتذہ کے کندھوں پر چھوڑ دیا ہے، جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہزاروں کنٹریکٹ اساتذہ طلباء کو 100فیصد تعلیم کیسے فراہم کر سکتے ہیں جب وہ اپنی تنخواہوں کے بارے میں ذہنی طور پر غیر یقینی ہیں۔
دیویندر یادو نے بتایا کہ دہلی سرکارکے ریکروٹمنٹ بورڈ نے کل 10ہزار سرکاری اسکولوں کے عہدوں میں سے صرف 6,787 آسامیوں کو پر کرنے کا عمل شروع کیا، لیکن بھرتی کا عمل انتظامی رکاوٹوں کی وجہ سے رک گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منظور شدہ 950 پرنسپل عہدوں کے مقابلے میں 1,057اسکو لوں میں صرف 203 پرنسپلوں کی موجودگی تعلیمی نظام پر سنگین سوالات کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے نشا ندہی کی کہ مہمان اساتذہ میں سے پی جی ٹیکو 1,445 یومیہ، ٹی جی ٹی کو 1,403 فی دن اور پرا ئمری اسکول کے اساتذہ کو 1,364 یومیہ ادا کیا جاتا ہے۔
دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی کی ریکھا گپتا سرکار گیسٹ ٹیچرز اور کنٹریکٹ ٹیچرز کو فوری طور پر ریگولرائز کر ے اور انہیں مستقل اساتذہ کے طور پر بھرتی کرے اور ریکروٹمنٹ بورڈ کو حکم دے کہ وہ بقیہ 10 ہز ارخالی آسامیوں کو فوری طور پر پر کرنے کا عمل شروع کرے، تاکہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے غریب بچے بھی مستقبل میں ملک کی ترقی میں برابر کا حصہ ڈال سکیں۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *