
نئی دہلی، 25جنوری(میرا وطن)
عام آدمی پارٹی نے دہلی کے پرائیویٹ اسکولوں سے بڑھی ہوئی فیس والدین کو واپس دلانے کے بی جے پی سرکارکے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ آپ دہلی کے صدر سوربھ بھاردواج نے دہلی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آتشی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات پر وزیر تعلیم آشیش سود کے دیے گئے جو ابات کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بڑا انکشاف کیا۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ وزیر تعلیم نے ایوان اسمبلی میں خود تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ برس من مانے طر یقے سے بڑھائی گئی فیس کسی بھی پرائیویٹ اسکول نے والدین کو واپس نہیں کی۔ بی جے پی سرکاراور پرائیویٹ اسکولوں کے درمیان ملی بھگت کا یہ بڑا پردہ فاش خود دہلی کے وزیرتعلیم آشیِش سود نے اپنے جوابات سے کر دیا ہے۔
سوربھ بھاردواج نے ایکس پر کہا کہ اسمبلی اجلاس میں وزیرِ تعلیم آشیِش سود کے جوابات سے پرائیو یٹ اسکولوں کے ساتھ ملی بھگت واضح ہو گئی۔ اول، کسی بھی پرائیویٹ اسکول نے بڑھی ہوئی فیس واپس نہیں کی۔ دوم، پرائیویٹ اسکولوں کے مالی آڈٹ کے باوجود دہلی سرکار نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ سوم، ڈی ایم کی صدارت والی کمیٹی کی سفارش کے باوجود ڈی پی ایس اسکول کے خلاف طلبہ کے استحصا ل کے معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ اور چہارم، دہلی سرکار کے پاس اپریل 2025 میں فیس بڑھانے والے پرائیویٹ اسکولوں کا کوئی ریکارڈ موجود ہی نہیں ہے۔
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی سرکار بنتے ہی یکم اپریل 2025سے شروع ہونے والے تعلیمی سیشن میں تقریباً تمام پرائیویٹ اسکولوں نے اپنی فیس میں 20فیصد سے لے کر 80فیصد تک بھاری اضافہ کر دیا۔ اس کے خلاف والدین نے زبردست احتجاج اور مظاہرے کیے، جس کے بعد دبا ¶ میں آ کر بی جے پی کی وزیرِ اعلیٰ اور وزیر تعلیم آشیِش سود نے پرائیویٹ اسکولوں کے آڈٹ کرانے اور فیس واپس دلانے کا وعدہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سرکارسے بار بار آڈٹ کے نتائج اور اس پر کی گئی کارروائی کے بارے میں پوچھا گیا، مگر کوئی جواب نہیں ملا۔اسی لیے عام آدمی پارٹی کے اراکینِ اسمبلی نے اسمبلی اجلاس میں وزیرِ تعلیم آشیش سود سے سوالات کیے۔
No Comments: