
نئی دہلی ،23جنوری (میرا وطن )
دی پین فاو ¿نڈیشن، ہنس راج کالج اور ماٹی ٹرسٹ کے زیراہتمام ہندوستانی جدوجہد آزادی کے عظیم ہیرو نیتا جی سبھاش چندر بوس پر ایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ افتتاحی سیشن کی مہمان خصوصی وجے گوئل (سابق مرکزی وزیر اور نائب صدر، گاندھی درشن) رہے، جبکہ مہمانانِ اعزازی سنجے میوکھ (ایم ایل سی اور نیشنل میڈیا کو-ہیڈ، بی جے پی) اور سپرنو ستپتھی (صدر، ایس این ایس ایم ٹی) تھے۔ افتتاحی سیشن کی صدارت سینئر آئی اے ایس افسر نتیشوار کمار نے کی، جبکہ سینئر صحافی پدم بھوشن رام بہادر رائے نے اختتامی سیشن کی صدارت کی۔ بریگیڈیئر دیپندر راوت اور مصنف دیپک کمار اس سیشن کے مہمانان اعزازی رہے۔ استقبالیہ اور کلیدی خطبہ دی پین فاو ¿نڈیشن کے چیرمین آصف اعظمی نے دیا جبکہ اختتامی کلمات کالج کی پرنسپل پروفیسر راما نے پیش کیے۔
مقررین نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے انقلابی نظریات، ان کے قوم پرست شعور اور ہندوستانی اد ب میں ان کی شخصیت کے کثیر جہتی تاثرات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔وجے گوئل نے کہا کہ نیتا جی بے مثال ہمت، بہادری اور قربانی کا مظہر تھے۔ ان کی زندگی، افکار اور بہادری آنے والی نسلوں کو قوم کی خدمت اور اپنا فرض نبھانے کی ترغیب دیتی رہے گی۔سپرنو ستپتھی نے کہا کہ نیتا جی کی شخصیت کثیر جہتی تھی۔ وہ ایک آزادی پسند، ایک انقلابی رہنما، اور ایک سچے محب وطن تھے۔ میری نظر میں گاندھی جی کا تعاون بہت زیادہ ہے لیکن نیتا جی کا تعاون اس سے بھی بڑا اور اہم ہے۔
ا پنے صدارتی خطاب میں نتیشور کمار نے کہا کہ نیتا جی ادیبوں اور فنکاروں کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں ۔ مرکزی موضوع کے طور پر ان کے ساتھ متعدد نظمیں اور ادبی کام لکھے گئے۔سیمینار کے محرک آصف اعظمی نے کہا کہ یہ سیمینار نیتا جی پر ہندی، بنگالی، اڑیہ، مراٹھی اور اردو میں لکھے گئے مواد کا جائزہ لینے اور اسے مرتب کرنے کے مقصد سے منعقد کیا گیا ہے۔
دہلی سرکار کی ہندی اور اردو اکیڈمی کے اشتراک سے منعقدہ اس ایک روزہ سیمینار میں ملک بھر کی ممتاز یونیورسٹیوں کے پندرہ اساتذہ اور سینئر صحافیوں نے اپنے تحقیقی مقالے پیش کئے اور بتایا کہ نیتا جی نہ صرف ایک فوجی رہنما تھے بلکہ وہ ہندوستانی ادب، فکر اور ثقافتی شعور کے لیے تحریک کا ایک مضبوط ذریعہ تھے۔ ہندی، اردو، بنگالی، اڑیہ اور دیگر ہندوستانی زبانوں میں ان کی شخصیت اور افکار کا ادبی اظہار آج بھی موزوں ہے۔
No Comments: