Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

ایران میں حالیہ مظاہروں کو لے کر ایران کو بدنام کیا گیا ،اس کی سچائی دنیا کے سامنے آچکی ہے

ہندوستانی اور ایرانی، میں سمجھتا ہوں کہ ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں:ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی

نئی دہلی،21جنوری(میرا وطن)
اسلامی جمہوریہ ایران میں ہوئے گذشتہ دنوں مظاہروں کو لے کر ایران کو بدنام کیا گیا اس کی سچائی دنیا کے سامنے آچکی ہے۔ ایران میں سب کچھ ٹھیک ہے اس کے باوجود کچھ شرپسند طاقتیں ایران میں خلل پیدا کرنا چاہتی ہیں جو ایرانی مزاج کے مطابق کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔حالانکہ ایران کو بدنام کرنے میں میڈیا یعنی مغربی میڈیا پوری طرح سے ملوث رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خا منہ ای کے ہندوستان میں نمائندے ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے نئی دہلی واقع ایران کلچرل ہاؤس میں کیا ۔
اس موقع پر ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی نے بتایا کہ کس طرح سے ایران میں آئی ایس آئی ایس دہشت گر د وں کو بھیجا گیا اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری حکومت کے وزیر نے بتایا کہ پکڑے گئے اس طرح کے دہشت گردوں کے اقبالیہ جرم سے ثابت ہوا ہے کہ لوگوں کو قتل کرنے پولیس میں بم بلاسٹ کرنے ، اسپتالوں میں دھماکہ کرنے جیسے دہشت گردانہ حملوں کے لیے مختلف پیکیج دئے گئے۔ ان دہشت گردانہ طاقتوں کے پیچھے کون ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
ڈاکٹرالہٰی نے کہا کہ ہندوستانی اور ایرانی، میں سمجھتا ہوں کہ ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔ اس لیے ہمیں ایک دوسر ے کے لئے نہ صرف حکومتی سطح بلکہ مذہبی سطح پر بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں اپنی اپنی تہذیب ادب و احترام پر بھی عمل کرنے کی ضرورت ہے۔حالانکہ ایران کئی مرتبہ یہ صا ف کر چکا ہے کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والے جس اتحاد کے ساتھ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کر تے ہیں۔ ایسی مثال دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں ملتی ہے۔ہندو ستان اور ایران کا رشتہ صرف تجارت تک محدود نہیں ہے بلکہ ہماری جڑیں ایک دوسرے کے ساتھ بہت گہری ہیں اور تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ ہندوستانی ثقافت اس کی بول چال اس کے رہن سہن میں بھی بہت زیادہ بدلاؤ نہیں ہے۔
ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہٰی نے کہا کہ ایران اور بھارت کے تعلقات مزید بہتر ہونے چاہئے۔ ہندوستان میں مذہبی اور انٹیلیکچوئل کو میرا سلام پہنچائے، یہ ہمارے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا پیغام ہے جو میں آپ لوگوں کے ذریعہ ہندوستان کو دے رہا ہوں۔
ڈاکٹر الٰہی نے ادب و احترام کو ہندوستانی تاریخ بتاتے ہوئے کہا کہ ہند کی تہذیب اور اس کے القا ب و آداب تمام دنیا میں کہیں ملتے ہیں۔ یہاں پر نہ صرف مذہبی رہنماؤں بلکہ سیاستدانوں اور حکمرا نوں کو بھی ایسے ایسے القاب سے مخاطب کیا جاتا ہے جو القاب نہ صرف فارسی بلکہ انگریزی میں مشکل سے ملتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو تقسیم کرنے والوں کی ہم مذمت کرتے ہیں۔
ڈاکٹر لہٰی نے بابائے قوم مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو کے بیانات میں ادب خاص طور سے پایا جاتا ہے ۔جبکہ ویسٹرن کلچرل میں اس طرح کے ادب و احترام کا وجود نہیں ہے۔ گذشتہ دنوں مذہبی رہنما ؤں کو جس طرح سے میڈیا نے پیش کیا ہے وہ ہندوستانی تہذیب اور اس کے احترام و ادب کا حصہ نہیں ہوسکتااور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کچھ میڈیا ہندوستانی تہذیب کو بھول رہا ہے۔کچھ الفاظ جو ایرانی مذہبی رہنماؤں کے تئیں استعمال کئے گئے وہ اچھے نہیں ہیں۔
ایران اور ہندوستان کے تعلقات تقریباً تین ہزار سال پرانے ہیں۔ ہندوستانی کی تاریخ ایران کے بغیر ادھوری ہے تو وہیں ایران کی تاریخ بھی ہندوستان کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ جس طرح سے سوشل میڈ یا اور دیگر ذرائع سے بتایا گیا کہ ایران میں حالات کافی خراب ہیں اس طرح کی خبروں میں سچائی نہیں ہے ایران میں سب کچھ ٹھیک ہے۔کیا ہم اس بات کو نظر انداز کر سکتے ہیں جو آج ہماری سرکاری زبان فارسی ہے وہ کبھی ہندوستان کی بھی سرکاری زبان ہوا کرتی تھی۔
ایران ایٹم بم بنانے کے قریب ہے؟کے سوال پر ڈاکٹر الٰہی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے، ہم اس بات کی کئی مرتبہ صفائی دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کربلا جیسے واقعات جو آج تک موجود ہیں ان کو عوام تک پہنچا نے میں میڈیا کا ہی اہم کردار ہے، لیکن آج سچائی پر مبنی خبروں کو عوام تک پہنچا نے میں کہیں نہ کہیں کوتاہی ہو رہی ہے اور بعض ٹی وی چینلز فیکٹ سے ہٹ کر کریٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں جو ٹھیک نہیں ہے۔
ڈاکٹر الٰہی نے ایران میں انقلاب کے بعد جو حالات بدلے اور ایران میں بہتری اور ترقی ہوئی اس کے بارے میں بھی انہوں نے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ پہلی کلاس سے لے کر ہائر ایجوکیشن تک حکومت کی جانب سے مفت تعلیمی نظام ہے۔اتنا ہی نہیں صحت کے شعبے میں بھی شروع سے آخر تک مفت علاج کی سہولت حکومت کی جانب سے دستیاب کرائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے معا ملے میں ایران میں انقلاب پیدا ہوا ہے اور آج ہمارے یہاں تقریباً سو فیصد لیٹریسی ہے۔
ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہٰی نے ایرانی سپریم لیڈ کی سادگی کے بارے تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو حق بیانی سے کام لینا چاہئے کیونکہ دنیا کے حالات سے واقف کرانے میں میڈیا کا اہم رول ہے اور وہ بھی سچائی کے ساتھ لوگوں تک پہنچانا میڈیا کی ذمہ داری بھی ہے۔

Next Post

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *