
آر ٹی آئی ایکٹوسٹ محمدشاہدگنگوہی نے ملوث افسروں کی تفتیش کا مطالبہ کیا
نئی دہلی، 13 جنوری(میرا وطن)
راجدھانی کے ترکمان گیٹ میں واقع مسجد فیض الٰہی کے احاطہ پر دہلی میونسپل کارپوریشن کی انہدامی کارروائی کے بعد ہائی کورٹ کی ڈائریکشن اور لینڈ اینڈ ایسٹیٹ کارپوریشن کی فائنڈنگ رپورٹ کی خلاف ورزیوں پر شدید سوال اٹھ گئے ہیں۔ سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے اس معاملے کو سامنے لاتے ہوئے ملوث حکام کے خلاف تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔
7 جنوری کو ایم سی ڈی نے مسجد فیض الٰہی کے قریبی علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کے لیے انہدامی کارروائی کی۔ اس کارروائی میں الزام کے مطابق ایک ڈائیگناسٹک سینٹر، ایک بنکویٹ ہال اور دو حدود کی دیواریں شامل تھیں۔ تاہم، مسجد کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ زمین وقف ملکیت ہے اور اس پر کوئی تعمیرات غیر قانونی نہیں تھیں۔دہلی ہائی کورٹ نے 6 جنوری کو ایم سی ڈی، وزارت شہری ترقی، ڈی ڈی اے اور وقف بورڈ کو نوٹس جاری کیا تھا، لیکن انہدامی کارروائی کے آغاز سے پہلے کوئی سٹے آرڈر نہیں دیا گیا۔
محمد شاہد گنگوہی نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت ہائی کورٹ کی ڈائریکشن اور لینڈ اینڈ ایسٹیٹ کارپوریشن کی فائنڈنگ رپورٹ کی خلاف ورزیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں۔
گنگوہی نے کہا ’یہ انہدامی کارروائی صرف غیر قانونی تعمیرات تک محدود نہیں تھی، بلکہ وقف کی ملکیت پر حملہ تھا۔ ہائی کورٹ کی ڈائریکشن میں واضح طور پر مانا گیا ہےکہ مسجد کے اطراف کی زمین کی ملکیت کی بابت متعلقہ دعویداروں کو 6 جنوری کو نوٹس جاری کر انکو اپنا موقف رکھنے کی ہدایت دی ہے جس کی آ ئندہ تاریخ سماعت 22 اپریل ہے لیکن ایم سی ڈی نے اسے نظر انداز کر دیا۔انہوں نے کہا ’لینڈ اینڈ ایسٹیٹ محکمہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ زمین ایم سی ڈی کی ملکیت ہے، لیکن یہ رپورٹ جعلی اور خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ ہم ملوث حکام کے خلاف تفتیش کا مطالبہ کرتے ہیں۔
محمد شاہد گنگوہی نے ملوث حکام کی فہرست بھی پیش کی ہے، جن میںایم سی ڈی ، سٹی ایس پی زون کےکے ڈپٹی کمشنر وویک اگروال اورایگزیکیوٹیو انجینئر ورکس ، اجے جین شامل ہیں ۔انہوںنے کہا کہ تمامتر خلا ف ورزیاں پولیس انتظامیہ کے پروٹیکشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انجام دی گئی۔ ایک غیر سرکاری تنظیم ’سیو انڈیا فاو ¿نڈیشن ٹرسٹ‘کے ممبرپریت سروہی کی عرضی پر ہائی کورٹ نے انہدام کا حکم دیا تھا۔ان کے مطابق پولیس حال میں ویڈیو فوٹیج اور سوشل میڈیا کی سرگرمیوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ دیگر متعلقہ افراد کی شناخت کی جا سکے۔ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیاں بھی ایم سی ڈی افسران کی کارروائیوں کی جانچ کر رہی ہیں،ایسا سننے میں آیا ہے
No Comments: