
ترکمان گیٹ علاقے میں حالات بہتری کی طرف لیکن پسرا ہواہے ابھی بھی سنناٹا
پولیس کی ناکہ بندی سے عام لوگوں پر دہشت طاری ،لوگ کم ہی نکل رہے ہیں گھروں سے
بیمار لوگوں کو دواکےلئے اورعلاج کےلئے اسپتال جانے والوں کو پیش آرہی ہے دقت
پتھراﺅ معاملے میں تقریباً ایک درجن لوگ گرفتار،5لوگوں کی ضمانت عرضی 13جنوری کو ہوگی سماعت
نئی دہلی،9جنوری(میرا وطن)
دہلی میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں6-7جنوری کی درمیا نی را ت میں تاریخی درگاہ حضرت سید محمد فیض الٰہی مسجدکے احاطے کے کمر شیل مقامات پرکی گئی انہدامی کارروائی کے دور ان حالا ت کشیدہ ہوگئے تھے اور پولیس نے وہاں جمع بھیڑ کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا او ر آنسو گیس کے گو لے دا غے تھے ۔بہر حال آج مسجد درگاہ فیض الہٰی سمیت ترکمان گیٹ کی تمام مساجد میں نماز جمعہ ادا کیا گئی ۔ یہ الگ با ت ہے کہ مسجد فیض الہٰی میں مقامی سرکردہ رضا کار کے تحریری مطا لبے پرمتعلقہ انتظامیہ نے 20افراد کو نماز جمعہ پڑھنے کی اجاز ت دی جبکہ نماز عصرمیںکل 7مقتدی تھے ۔
بتایا جاتا ہے کہ اس واقعے کے بعد سے ہی ترکمان گیٹ اور اطرافی علاقوں میں اضافی پولیس اور نیم فو جی دستے تعینات ہیں ۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان برقراررکھنااولین ترجیح ہے او ر کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حالانکہ مقامی سرکردہ رضا کاروںکا کہنا ہے کہ صورتحال میں کچھ بہتری ضرورآئی ہے لیکن پولیس کی ناکہ بندی کی وجہ سے علاقائی لوگ ابھی بھی سہمے ہوئے ہیں اورانہیں اپنی ضروریات کے لئے مشقت کرنی پڑ رہی ہے ۔ترکمان گیٹ اور اطر ا ف میں ابھی سننا ٹا چھایا ہوا ہے ،کچھ لوگ اپنے گھروں کے باہر ٹہل تو رہے ہیں لیکن اگر کوئی بیمار ہے او ر اسے ضروری دوا لینے میڈیکل اسٹور یاعلاج کے لئے اسپتال جانا ہے ،تب ایسے لوگ زیادہ دقت میں ہیں ۔
بہر حال اب یہ معاملہ پوری طرح عدالتی دائرے میں داخل ہو چکا ہے۔دراصل اس کیس میں شامل تما م پانچ ملزمان کی جانب سے دائر کردہ ضمانت عرضیوں پر تیس ہزاری کورٹ13 جنوری کو سماعت کرے گی۔عدالت نے ایک دن قبل ہی پولیس کی درخواست پرگرفتارپانچوں ملزمان کو 13 دن کی عدالتی تحو یل میں جیل بھیجنے کاحکم دیاتھا۔ دہلی پولیس نے عدالت کوبتایا کہ واقعے کی مکمل جانچ، دیگر ملزمان کی شنا خت اور ممکنہ سازش کے زاویے کی تفتیش کیلئے عدالتی حراست ضروری ہے۔دہلی پولیس کے مطابق اس معا ملے میں اب تک تقریباًایک درجن افرادکوگرفتارکیاجاچکاہے، جبکہ دیگرمشتبہ افراد سے بھی پوچھ گچھ جاری ہے ۔ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیو کلپس اورمقامی انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیس کومضبوط کرنے میں مصروف ہے۔
وہیں قانونی ماہرین کے مطابق آئندہ سماعت میں عدالت ضمانت کیلئے ملزمان کی جانب سے پیش کیے گئے دلائل، پولیس کی رپورٹ اور واقعے کی نوعیت کومدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ اس کیس کوفرقہ وارانہ حساسیت کے تناظر میں بھی دیکھاجارہاہے،جس کے باعث عدالتی کارروائی نہایت احتیاط کے سا تھ آگے بڑھائی جا رہی ہے۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں، امن برقرار رکھیں اورکسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں ۔بتادیں کہ اب سبھی کی نظریں 13 جنوری کو ہونے والی عدالتی سماعت پرمرکوزہیں،جہاں یہ طے ہوگاکہ ملزمان کوضمانت ملے گی یاا نہیں مزید عدالتی حراست میں رکھا جائے گا۔
سوشل اینڈ آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے8جنوری کو مسجد فیض الہٰی میں باقاعدہ نماز کی ادائیگی اور دیگر نکات پر مشتمل ایک خط دہلی میونسپل کارپوریشن کے کمشنر کو لکھا تھا جس کی کاپی مرکزی سرکار ، د ہلی سرکار اور ایم سی ڈی کے تقریباً 13محکموں کو بھیجی گئی تھیں ۔ انہوں نے بتایا کہ آئین ہند کے آرٹیکل 25-26کی مسجد فیض الٰہی سے متعلق درخواست کرتے ہوئے ایک مقتدی کی جانب سے انہدام /ہٹانے کی کارروائی کو فوری طور پر روکنے اور w.p.(6)62026/06.01.2026کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں نماز دوبارہ دوبارہ شروع کرنے کی متعلقہ اداروںسے درخواست کی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے اس کے بعد ہی نماز جمعہ و دیگر نماز کی ادائیگی کی اجازت دی ہے ۔محمد شاہد گنگوہی نے علاقے کے عوام سے فی الحال افواہوں پر دھیان نہیں دینے کی اپیل کرتے ہوئے امن و امان بنائے رکھنے کی اپیل کی ہے ۔
No Comments: