
نئی دہلی، 7جنوری(میراوطن)
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کجریوال نے روسی تیل کی درآمد میں بیرونی دبا ¶ کے تحت کی گئی مبینہ کٹوتی سے متعلق عالمی سطح پر بڑھتے دعو ¶ں پر وزیراعظم نریندر مودی سے صورتِحال واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی مسلسل خاموشی ایک پُراعتماد اور خودمختار ملک کے طور پر بھارت کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ یورپی رہنما ¶ں کے عوامی بیانات اور سابق امریکی صدر ڈونا لڈ ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف (محصول )کی دھمکیوں کو بھارت کے توانائی سے متعلق فیصلوں کے سا تھ جوڑنے کے بار بار کیے گئے دعو ¶ں کا حوالہ دیتے ہوئے اروند کجریوال نے کہا کہ بھارت کی پا لیسی میں تبدیلیوں پر بیرونی منظوری ملنے سے ملک کی اسٹریٹجک خودمختاری سوالات کے گھیرے میں آ گئی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا بین الاقوامی دبا ¶ میں قومی مفادات پر سمجھوتہ کیا جا رہا ہے؟ حکومت اس پر واضح وضاحت دینے سے کیوں گریز کر رہی ہے؟ جمعرات کو ایکس ( ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیراعظم مودی کو صاف طور پر بتانا چاہیے کہ آیا بھارت نے بیرونی دبا ¶ کے باعث تیل کی درآمد سے متعلق اپنے فیصلوں میں کوئی تبدیلی کی ہے یا نہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں بھارت اور ہمارے وزیراعظم کے بارے میں نہایت توہین آمیز تبصرے کیے ہیں۔وزیراعظم جی، آپ کو آخر کیا روک رہا ہے؟ یہ خاموشی سنگین سوالات کھڑے کرتی ہے۔ بھارت ایک مضبوط اور خودمختار ملک ہے۔ ہماری خارجہ پالیسی میں خود اعتمادی اور خودداری نمایاں ہونی چاہیے
No Comments: