
نئی دہلی 07 جنوری (میرا وطن نیوز):دہلی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کا تیسرا دن بھی ہنگامہ خیز رہا۔ اسمبلی سکریٹری رنجیت سنگھ نے کارروائی شرو ع کی، جس میں سوالات کے وقت سے لے کر بل کی پیشکشوں تک کئی اہم موضوعات شامل تھے۔ در یں اثنا، گرو تیغ بہادر کے معاملے پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی جمعرا ت کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دی گئی۔
بی جے پی قانون ساز پارٹی اپوزیشن لیڈر آتشی سے عوامی معافی مانگنے کے مطالبے پر ڈٹی رہی۔ اس کے علاوہ، حکمراں پارٹی کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کے خلاف علامتی احتجاج کر تے ہوئے اپنے غصے کا اظہار کیا۔ دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے کہا کہ ویڈیو کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ گرﺅوں کے احترام کو لے کر غیر پارلیمانی زبان استعمال کی گئی ہے، اس لیے اپوزیشن لیڈر کو ایوان میں آکر وضاحت کرنی چاہیے۔
بی جے پی ایم ایل اے پرویش صاحب سنگھ نے کہا کہ گرو تیغ بہادر کی توہین کی وجہ سے آتشی آج اسمبلی میں موجود نہیں تھی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ ایوان میں موجود ہوں اور اسپیکر اسمبلی فیصلہ کریں کہ انہیں کیا سزا دی جائے۔ اس کے علاوہ پوری عام آدمی پارٹی کو معافی مانگنی چاہیے۔ گرو کے معاملے پر دہلی اسمبلی میں ایک بار پھر ہنگامہ شروع ہو گیا ہے۔ ہنگامہ اتنا بڑھ گیا کہ حکمراں پارٹی کے ایم ایل ایز کنویں تک پہنچ گئے۔ حکمراں پارٹی کے ایم ایل اے اس معاملے میں اپوزیشن لیڈر آتشی اور اے اے پی سے معا فی مانگنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکمراں پارٹی نے آپ لیڈر اور اپوزیشن لیڈر آتشی پر سیشن میں شرکت کے بجائے گوا جانے کا الزام لگایا
No Comments: