Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

رات کی تاریکی میں مسجد درگاہ فیض الہٰی میں انہدمی کارروائی

بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں 32 جے سی بی مشینیں لگاکر چلایا گیا بلڈوزر،پولیس نے پانچ افراد کاشف، محمد کیف، محمد اریب، عدنان اور سمیر کو کیاگرفتار،25 دیگر کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے،دہلی میونسپل کارپوریشن کی ڈیزگنیٹڈ د ہلی ہائی کو ر ٹ بینچ میں6 جنوری کی سماعت کے تناظر میں جاری آرڈر کی انتظا ر کئے بغیر مسجد فیض الٰہی سے متصل چا ر دیواری اور کمروں کا رات کے اند ھیرے میں مسمار کیا جانا اصولو ں کے ساتھ کھلوا ڑ ہے

نئی دہلی (میرا وطن نیوز):دہلی میونسپل کارپوریش کے انہدامی دستہ نے چھ اور سات جنوری کے درمیانی شب میں مسجد فیض الٰہی سے متصل 36428 اسکوائر فٹ ایریا سے متصلنئی  تعمیرات کو 32 جے سی بی مشینیں لگاکر زمین بوس کردیا ۔یہ پوری کارروائی بھاری پولیس بندوبست کی موجودگی پورے علاقہ کا محاصرہ کرنے کے بعد انجام د می گئی،جس میں خاتون پولیس اہلکار بھی شامل تھیں۔ ایم سی ڈی کی ڈیزگنیٹڈ دہلی ہائی کورٹ بینچ میں6 جنوری کی سماعت کے تناظر میں جاری آرڈر کی انتظا ر کئے بغیر مسجد فیض الٰہی سے متصل چار دیواری اور کمروں کا رات کے اندھیرے میں مسمار کیا جانا اصولو ں کے ساتھ کھلواڑمانا جا رہا ہے ۔بتایا یا جاتا ہے کہ انہدامی کارروائی میں مسجد کے ایک حصے کو بھی کچھ نقصان پہنچا ہے ۔کا رروائی کے بعد بھی مسجد فیض الہٰی اور اس کے اطراف کے ترکمان گیٹ علاقے میں دہلی پولیس ، پیرا ملٹی فورس اور خفیہ دستے تعینا ت ہیں۔ پورے علاقے میں مارکیٹ سمیت تمام دکانیں بند ہیں او سننا ٹا پسرا ہوا ہے۔ایم سی ڈی عملہ ملبہ ہٹانے کے کام مصروف ہے ۔
بتایا جاتا ہے کہ رات کی تاریکی میںایم سی ڈی دستے کے ذریعہ کی گئی اس انہدامی کارروائی کے خلاف کچھ لوگو ں نے احتجاج کرنے کی کوشش کی تب بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہلکی طاقت کا استعمال کیاگیا ا و ر آنسو گیس کے گولے چھوڑ ے گئے ۔ ہنگامہ آرائی اور پتھراو ¿ میں دہلی پولیس کے5 اہلکار زخمی ہوگئے ۔ پو لیس نے زخمیوں کو قر یبی اسپتال میں داخل کرایا۔ بدھ کی صبح پولیس نے بی این ایس ایس کی دفعہ 221/132/121/191(2)/191(3)، 223(A)/3(5) اور پی ڈی پی پی ایکٹ 1984 کی تین دفعہ (سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالنے، سرکاری ملازمین پرحملہ ،اصلح لے کر بلوا کرنے ،سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے) کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
سنٹرل ڈسٹرکٹ پولیس نے پانچ افراد کاشف، محمد کیف، محمد اریب، عدنان اور سمیر کو فسادات اور پتھراو ¿ کے الزام میںکو گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ 25 دیگر کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اس وقت پورا علاقہ کشیدہ ہے۔ احتیاط کے طور پر، پولیس نے علاقے میں بی این ایس ایس کی دفعہ 163 (دفعہ 144) نافذ کر دیا ہے۔ ہجوم کے اجتماع پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پو لیس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
پولیس ہنگامہ کرنے والوں کی شناخت کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں اور جسم سے پہنے ہوئے کیمروں کا استعمال کر رہی ہے۔ کچھ افراد کی شناخت کے بعد ان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ فسادات کے دوران لوگوں نے سوشل میڈیا پر بھیڑ کو بھڑکانے والی متعدد ویڈیوز شیئر کیں۔ پولیس ان لوگوں کی شناخت کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے جنہوں نے ہجوم کو اکسانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا۔ اس پر ضلع وسطی کی کئی ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔
دریں اثنا، رام پور سے ایس پی رکن اسمبلی محب اللہ ندوی پر بھیڑ کو بھڑکانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ دہلی پولیس کے سینئر افسروںکا کہنا ہے کہ اس کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ الزامات کے بارے میں ایس پی ایم پی محب اللہ ندوی نے کہا کہ انتظامیہ کی کارروائی حقیقی عقیدت کی عکاسی نہیں کرتی ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ لوگوں سے امن اور ہم آہنگی کی اپیل کرنے گئے تھے۔ مسجد کمیٹی کو کارروائی کرنے سے پہلے کچھ وقت دینا چاہیے تھا۔
سنٹرل رینج کے جوائنٹ کمشنر مدھور ورما نے کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن کو درگاہ فیض الٰہی میں غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کی ضرورت تھی۔ چونکہ علاقہ انتہائی حساس ہے اس لیے پولیس نے حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ پورے علاقے کو 9 زونوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ہر زون میں ایک اے سی پی سطح کا افسر تعینات تھا۔ مسجد کمیٹی کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی کہ غیر قانونی تعمیرات کو ہٹانے کا عمل بدھ کی صبح شروع ہو جائے گا۔
سوشل اینڈ آرٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی اس معاملہ پر تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن کے حکم کے خلاف مسجد فیض الٰہی منتظمہ کمیٹی کی جانب سے گشتہ پانچ جنوری کو دہلی ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر کورٹ نے تفصیل سے سبھی متعلقہ فریقین کو سننے کے بعد آئندہ 22 اپریل کی تاریخ مقرر کر فریقین کو اپنا اپنا رخ بیان حلفی کے ذریعہ اندرون تین ہفتہ داخل کرنے کے لئے ہدایت جاری کی۔ بتا مدیں کہ خبر کے لکھے جانے تک ہاءی کورٹ کا آرڈر اپ لوڈ نہیں ہواتھا۔ جس سے ابھی تک کورٹ کے اصل احکامات کی وضاحت نہیں ہو پائی ہے۔
انہوں نے ایم سی ڈی کی کارروائی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن نے بغیر کورٹ کا آر ڈر مطالعہ کئے جلد بازی میں کارروائی کرتے ہوئے زبردست انہدامی عمل کو انجام دیا۔ واضح ہو کہ ہائی کورٹ جج امت بنسل نے اس اراضی کے ٹائٹل کیس کو متنازع مانا ہے اور فریقین سے اپنے ا پنے رخ کو دستاویز کے ذریعہ رکھنے کو کہاہے۔انہوں نے کہا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن کی ڈیزگنیٹڈ د ہلی ہائی کو ر ٹ بینچ میں6 جنوری کی سماعت کے تناظر میں جاری آرڈر کی انتظا ر کئے بغیر مسجد فیض الٰہی سے متصل چا ر دیواری اور کمروں کا رات کے اند ھیرے میں مسمار کیا جانا اصولو ں کے ساتھ کھلوا ڑ ہے۔
انہوں نے قانونی جانکاری رکھنے والوں کے حوالے سے بتا یا کہ جب عدلیہ میں معاملہ زیر التوا ہو اور سبھی فریقین کی عدلیہ میں موجودگی ہو اور عدلیہ کی جانب سے پچھلے آرڈر پر حکم امتناعی جاری کیا ہو اور نہ ہی پچھلے آرڈ ر کو جاری رکھنے کی بھی ہدایت جاری نہ کی گئی ہو۔ ایسی حالت میں ممکنہ کارروائی کو تا حکم ثانی ٹالا جاتا ہے مگر اس پر عمل نہیں کیا گیا۔جس کی جتنی مذ مت کی جائے کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں پولیس انتظامیہ کو بھی عدالت کے نئے آرڈر کی سمیکشا کئے بغیر کارپوریشن کو انہدامی کاررو ائی کے لئے پولیس پروٹیکشن فراہم نہیں کرنا چاہئے تھا۔ وہیں انہوں نے اوقاف جا ئیدادوں کا باقاعدہ ریکا رڈ کو محفوظ نہ رکھنے کے لئے سخت مذمت کی ہے۔نیز مقامی منتخب نمائندگان کی جانب سے برتی جا رہی غفلت کو بھی مسجد فیض الٰہی سے متصل عمارتوں کی انہدامی کارروائی کے لئے ذمہ دار بتایا ہے ۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *