
نئی دہلی،2 جنوری (میر ا وطن)
بزمِ پیمبران سخن کے زیر اہتمام ایک ادبی نشست کا انعقاد ’جشن مولود حرم ‘ کے عنوان سے نور الٰہی کالونی میں مرحوم نظر عباس کے دولت خانے پر کیا گیا۔جس میں دہلی کے نامور شعرائے کرام نے شرکت کی اور منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔تنظیم کی یہ دوسری نشست تھی ،جس کی صدارت و نظامت مولانا حیدر علی جعفری پیش امام مسجد امام جعفر صادق علیہ السلام نورالٰہی دہلی نے کی۔اس نشست کے لیے مصرع دیا گیا تھا۔ع کامیابی کے لیے کردارِ حیدر چاہئے۔ دیے گیے مصرع پر شعرائے کرام نے منقبتی اشعار پیش کیے۔
اس بزم کے زیر اہتمام ماہ میں ایک مرتبہ نشست کا انعقاد کیا جاتا ہے جس سے نو عمر شعرا کی آبیاری ہو سکے۔آج کے اس دور میں نئے شعرائ کے لیے تربیت کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بزم کا وجود عمل میں آیا ہے۔آخر میں شعرائے کرم کے منتخب اشعار پیش خدمت ہیں۔ماسٹر مشرف علی، اعظم نوگانوی اور مولانا ہاشم علی ہاشم نے نشست میں آن لائن شرکت کی۔
منتخب اشعار۔۔۔
تجربات زندگی نے یہ سبق ہم کو دیا
کامیابی کیلئے کردار حیدر چاہیے
مغل زادہ اختر مرزا
اک تبسّم سے صف اعدا الٹنے کیلئے
حوصلہ عبّاس غازی کے برابر چاہیے
منصور سانکھنوی
جانشین احمد مختار ہے میرا مام
اس کے سونے کے لیے احمد کا بستر چاہئے
مولانا ہاشم علی ہاشم
ہر مرض کے واسطے نام محمّد ہے شفائ
پر نبی کو ضعف میں زھرا کی چادر چاہیے
محمد مہدی
اپنے بچوں کو کھلاو ¿ تم سدا رزق حلال
مرتضیٰ کے ہاتھ سے گر جام کوثر چاھے
ماسٹر مشرف
سب کو مل جائیگی مولا کی غلامی کی سند
شرط اتنی سی ہے بس کردار قنبر چاہیے
اعظم نوگانوی
کم سے کم ایسا تو داماد پیمبر چاہیے
جس کی پیدائش کو بھی اللہ کا گھر چاہیے
فجر مرزا
چاہیے ان کو یتیموں کی مٹائیں بھوک و پیاس
جن کو محشر میں علی سے جام کوثر چاہیے
مولانا حیدر علی جعفری
قید سے یعقوب کو پہنچی نہ بوئے پیرہن
پھر ہوا کو دشت میں چلنا مکرر چاہئیے
ڈاکٹر مرزا کیفی سلطان
اٹھ رہے ہیں پھر دوبارہ حرملہ جیسوں کے سر
سر کچلنے کے لئے پھر ایک اصغر چاہیے
جری بگھروی
کہہ رہا تھا ایک دن یہ اوج فاراں کا خطیب
فتح خیبر کے لئے مرد مذکّر چاہئے
مولانا بابر عظمتی
مصطفیٰ کا جانشیں آنے کو ہے حق کا ولی
حق تو بنتا ہے اسے اللہ کا گھر چاہیے
ذوالفقار باقر
نشست کے آخر میں نشست میں شریک تمام شعرائے کرام نے ملک عزیز میں امن و سلامتی کے لیے دعا کی
No Comments: