Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

دہلی کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو آوارہ کتوں کی گنتی کرنے کی ہدایت کا معاملہ

ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے سوشل میڈیا پرگمراہ کن اور بد نیتی پر معلومات کا لیا نوٹس کبھی بھی ایسا کوئی حکم، ہدایات، سرکلر یا پالیسی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا:ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن

نئی دہلی، یکم جنوری(میرا وطن)
ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن، نیشنل کیپیٹل ٹیریٹری آف دہلی حکومت نے جمعرات کو سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹی، گمراہ کن اور بدنیتی پر مبنی معلومات کی گردش کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ دہلی کے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کو آوارہ کتوں کی گنتی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
آج میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر ایجوکیشن نے واضح طور پر کہا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجو کیشن کی جانب سے کبھی بھی ایسا کوئی حکم، ہدایات، سرکلر یا پالیسی فیصلہ جاری نہیں کیا گیا۔ گردش کر نے والے دعوے سراسر من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹے ہیں اور ان کا محکمہ تعلیم کے کسی سرکاری فیصلے یا ہدایت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں واضح کیا کہ 20نومبر2025کو ایک سرکلر مکمل طور پر سپریم کورٹ آف انڈیا کی سو موٹو رٹ پٹیشن (سول) نمبر 5 آف 2025 کی ہدایات کی تعمیل میں جاری کیا گیا تھا، جس کا عنوان تھا ’شہر میں آو ارہ کتوں کی دہشت ، بچے بھگت رہے ہیں خمیازہ‘۔ سرکلر کا واحد مقصد سیکورٹی عملہ کی تعیناتی اور رسا ئی کنٹرو ل کے مناسب اقدامات کے ذریعے اسکول کے احاطے میں آوارہ کتوں کے داخلے کو روک کر طلباءکی حفاظت کو یقینی بنانا تھا۔
ڈائریکٹر نے اس بات پر زور دیا کہ مذکورہ سرکلر میں آوارہ کتوں کی گنتی کرنے والے اساتذہ کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اساتذہ کا پیشہ ورانہ وقار، علمی کردار اور احترام سب سے اہم اور ناقابل تسخیر ہے۔ مزید بتا یا کہ جعلی بیانیہ کے پھیلاو ¿ کو دیکھتے ہوئے30دسمبر 2025 کو ایک پریس نو ٹ کے ذریعہ باضابطہ طور پر پوزیشن واضح کی تھی، جس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی جانب سے کبھی بھی ایسی کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔ اس سرکاری وضاحت کے باوجود، جھوٹے اور گمراہ کن مواد کو جان بوجھ کر پھیلایا اور بڑھایا جاتا رہا، جو بدنیتی کے ارادے اور عوام کو گمراہ کرنے کی ایک مربو ط کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔
محکمہ نے سوشل میڈیا پر نقالی کے واقعات کا بھی مشاہدہ کیا ہے، جس میں لوگ خود کو ویڈیوز اور ریلوں کے ذریعے آوارہ کتوں کی گنتی کرنے والے اساتذہ کے طور پر جھوٹے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ایسی حرکتیں سنگین جرم ہیں۔مذکورہ بالا کو مدنظر رکھتے ہوئے، ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن نے سول لائنز پولیس اسٹیشن، نارتھ ڈسٹرکٹ، نئی دہلی میں ایک باضابطہ شکایت درج کرائی ہے، جس میں جھوٹے بیانیے کی ابتدا، تخلیق اور وسعت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس تعلق سے واضح کیا گیا کہ اس طرح کی غلط معلومات پھیلانے میں ملوث سوشل میڈیا ہینڈلز کی فہر ست پولیس کے ساتھ شیئر کی گئی ہے۔شکایت پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ مذکورہ کارروائیاں تعزیرات ہند، 2023 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ، 2000 کے تحت دفعات کو راغب کرتی ہیں، بشمول مجرمانہ ہتک عزت، عوامی فساد، جعلسازی، نقالی اور گمراہ کن الیکٹرانک مواد کی اشاعت یا ترسیل سے متعلق جرائم۔
ڈائریکٹوریٹ نے درخواست کی ہے کہ ذمہ دار افراد کے خلاف مناسب ایف آئی آر کا اندراج جھو ٹے مواد کے تخلیق کاروں اور آگے بھیجنے والوں کی شناخت کے لیے مکمل چھان بین قانون کے مطابق سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ اس طرح کی کارروائیوں کے اعادہ کو روکا جا سکے۔
ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میڈیا تنظیموں اور شہریوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ کسی بھی مواد کو شائع کر نے یا شیئر کرنے سے پہلے سرکاری ذرائع سے معلومات کی تصدیق کریں، خاص طور پر تعلیم اور طلباءکی حفاظت سے متعلق حساس مسائل پر۔ڈائریکٹوریٹ شفاف نظم و نسق، طلباءکے تحفظ، اساتذہ کے وقار کو برقرار رکھنے اور عوامی اعتماد اور ادارہ جاتی اعتبار کو مجروح کرنے والی دانستہ غلط معلومات کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *