
نئی دہلی، 16مارچ(میرا وطن نیوز )
ملک کی راجدھانی میں نشہ اسمگلنگ کی حقیقت بے نقاب کرنے والے پولیس افسر کے خلاف ہی محکمانہ کارروائی کیے جانے پر عام آدمی پارٹی نے سخت اعتراض ظاہر کیا ہے۔ آپ کے دہلی پردیش صدر سور بھ بھاردواج کا کہنا ہے کہ پولیس افسر کے انکشاف کے بعد دہلی پولیس اور مرکزی وزارتِ داخلہ کو نشہ اسمگلنگ کی جڑوں تک پہنچنا چاہیے تھا اور اس میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنا چاہیے تھا تاکہ نشے کے کارو بار پر لگام لگائی جا سکے، لیکن یہاں تو اس کے برعکس خود پولیس کے خلاف ہی کارروائی کر کے پورے محکمہ پولیس کا حوصلہ پست کیا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں سرکارسے یہ امید کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ دہلی کے اندر نشے کے کاروبار کو قابو میں کرے گی؟
سوربھ بھاردواج نے کہا کہ گزشتہ دنوں دہلی پولیس کے ایک افسر نے عوام کے سامنے انکشاف کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے کچھ اراکینِ اسمبلی پر نشہ اسمگلروں کو تحفظ دینے کا الزام عائد کیا تھا ۔ا س پولیس افسر کا حوصلہ بڑھانے کے بجائے پولیس کمشنر نے اسی کے خلاف کارروائی کے احکامات جار ی کر دیے۔ اس کارروائی سے اب یہ پیغام صاف ہو گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے احکامات پر عمل کرتے رہو ، چاہے وہ احکامات مجرموں اور نشہ آور اشیاءکے اسمگلروں کو چھوڑنے کے ہوں یا انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہی کیوں نہ ہوں۔ پولیس افسران کو ہر حال میں خاموش رہنا چاہیے۔
رکن اسمبلی سنجیو جھا نے کہا کہ جس طرح مجیٹھیا نے پنجاب کو نشے میں دھکیلا ہے اب اسی طرز پر دہلی کو وز یر اعلیٰ ریکھا گپتا نشے میں دھکیل رہی ہیں ۔انہوںنے کہا کہ دو دن پہلے پولیس افسر کی وائرل ویڈیو انتہا ئی سنسنی خیز اور رونگٹے کھڑے کر دینے وا لی تھی۔ اشوک وہار میں نشے اور مارپیٹ کے دوران ایک شخص کی موت ہو گئی جبکہ ایک اور شخص شدید زخمی ہے۔ جب لوگ دہلی پولیس کے پاس گئے تو پولیس کا کہنا تھا کہ یہ نشے کا کاروبار رکن اسمبلی اور وز یر اعلیٰ ریکھا گپتا کے تحفظ میں چل رہا ہے۔
No Comments: