
اگر کسی پر جبر کیا گیا تو ہم عدالت جائیں گے:مولانا محمود مدنی
نئی دہلی 25 مارچ (میرا وطن نیوز)
جمعیت علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے وندے ماترم سے متعلق سپریم کورٹ آف انڈیا کے ذریعہ بدھ کوظاہر کردہ موقف پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کا یہ واضح اور اصولی موقف ہے کہ وندے ماترم ہمارے بنیادی عقیدہ توحید کے خلاف ہے، اس لیے کسی بھی حکم یا ہدایت کے ذریعہ اسے گانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کسی شہری کو اس کے مذہب، عقیدہ اور ضمیر کے خلا ف کسی عمل پر مجبور کرنا نہ صرف آ ئینی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر براہِ راست حملہ ہے۔مولانا مد نی نے کہا کہ بھارت کا آئین ہر شہری کو ضمیر اور مذہب کی آزادی کا مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے، جسے کسی بھی انتظامی ہدایت، سرکاری دباﺅ یا سماجی جبر کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آج ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے یہ حقیقت دوٹوک انداز میں بیان کی ہے کہ 28جنوری کو وندے ماترم سے متعلق سرکاری گائیڈلائن محض ایک ’مشورہ‘ ہے اور اس کی کوئی لازمی حیثیت نہیں ہے، نیز اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کوئی تعزیری کارروائی بھی مقرر نہیں۔
مولانا مدنی نے خبردار کیا کہ اگر ملک کے کسی بھی حصے میں کسی فرد، طالب علم یا ادارے کو اس معاملے میں مجبور کیا گیا، یا اس کے مذہبی و آئینی حقوق کو پامال کرنے کی کوشش کی گئی، تو جیسا کہ سپریم کورٹ نے آج خود واضح کیا ہے، جمعیت علماءہند عدالت سے رجوع کرے گی اور ہر ممکن قانونی جنگ لڑے گی۔
مولانا نے کہا کہ یہ وقت ملک میں آئین کی بالادستی کو مضبوط کرنے کا ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کو فروغ دینے کا جو شہریوں کے درمیان خوف، دباﺅ اور تفریق کو جنم دیں۔ انہوں نے سرکار اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں واضح ہدایات جاری کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ کسی بھی سطح پر کسی شہری کے ساتھ جبر، امتیاز یا زیادتی نہ ہو۔
No Comments: