Vinco Paints - Advt

قومی خبریں

خواتین

عالمی میڈیا میں بھی منی پورسانحہ کی گونج

مختلف زبانوں کے مشہور روزناموں نے اپنے اخبارات کے ساتھ ساتھ نیوزپورٹلز اور ویب سائٹس پر منی پور سانحہ کی خبریں شائع کی ہیں۔

نئی دہلی : منی پور نسلی تشدد کا کوریج غیرملکی میڈیا مسلسل کررہا ہے۔اب  منی پور سانحہ کی گونج بھی عالمی میڈیا میں سنائی دے رہی ہے۔ مختلف زبانوں کے مشہور روزناموں نے اپنے اخبارات کے ساتھ ساتھ نیوزپورٹلز اور ویب سائٹس پر منی پور سانحہ کی خبریں شائع کی ہیں۔ اس ضمن میں جہاں  وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کوواضح جگہ دی گئی ہے وہیں سرخیوں میں ان کی مبینہ ’خاموشی‘ کا بھی خاص ذکر ہے۔
موقرامریکی روزنامہ ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے منی پور معاملے پر شائع کی گئی مفصل خبر میں سرخی لگائی کہ :’’بھیڑ کے ذریعہ  خاتون پر جنسی تشدد کی واردات کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ’’ہندوستان کے مودی‘‘ نے منی پور کے نسلی تصادم پرچپی توڑی‘‘ اس خبر میں  وزیراعظم کے بیان کے ساتھ اپوزیشن کا ردعمل اور سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کا ذکر ہے۔ منی پور کے تازہ حالات، انتظامیہ کا بیان اور جنسی تشدد کا شکار ہونے والی متاثرہ کا بیان  اس خبر میں  موجو د ہے۔
بلومبرگ نے اس معاملے پر جو خبر شائع کی ہے، اس پر سرخی لگائی کہ ’’پرتشدد ویڈیو پر غصہ پھوٹ پڑنے کے بعدمودی نے مہینوں کی خاموشی توڑی ‘‘۔ تقریباً ایسی ہی سرخی برطانوی روزنامہ ’دی گارجین‘ نے اپنی ایک خبر پر لگائی ہے، اس  ویڈیو نیوز کا عنوان ہے: ’منی پور:   جنسی ہراسانی  پر غم و غصہ کے بعد مودی نےتقریباً دوماہ بعد لب کشائی کی۔ ‘‘
قطرکے انٹرنیشنل نیوز ٹیلی ویژن نیٹ ورک الجزیرہ  نےبھی اپنے پورٹل پر منی پور نسلی تشدد اور خواتین پر تشدد کے معاملات پر تفصیلی خبرشائع کی ہے ۔ اس خبر میں متاثرہ کے خاندان سے ہونیوالی بات چیت بھی درج کی گئی ہے ،نیز تشدد کی دیگر وارداتوں کے متاثرین کے بیانات بھی شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ دبئی کے معروف ’گلف نیوز‘ نے منی پور تشدد اور منی پور سانحہ کے متعلق اپنی ویب سائٹ پر ندھی رازداں کا طویل مضمون شائع کیاہے جس میں حکومت اور وزراء کی خاموشی پر سوال قائم کیا گیا ہے۔  مین اسٹریم میڈیا کے رویہ اور تساہل کو بھی نشان زد کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ڈیلی میل، دی انڈیپنڈنٹ، العربیہ،فرانسیسی جریدہ ’لے موندے‘اور دیگر خبر رساں  ایجنسیوں نے بھی اس کاکوریج کیا ہے۔

No Comments:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *