
نئی دہلی :اپنے شوہر کی موت کے بعد، ایک ماں نے اپنی بیٹی کو مدد اور اچھی پرورش کے لیے دہلی حکومت کے وومن اینڈ چائلڈ ڈپارٹمنٹ کے ایک سینئر افسر منھ بولے بھائی کے پاس بھیجا تھا۔ ماموں نے تمام حدیں پار کر دیں اور بچی کے ساتھ بار بار زیادتی کی۔ یہ واقعہ تقریباً دو سال بعد منظر عام پر آیا۔ جب نابالغ متاثرہ کو کئی بار گھبراہٹ کے دورے پڑے تو لڑکی کی ماں اسے اسپتال لے گئی۔ بچی کا علاج شروع کر دیا گیا، مختلف ڈاکٹروں نے اس سے پینک اٹیک سے متعلق سوالات کیے اور اس کی نفسیاتی تھراپی کی، اس دوران لڑکی نے اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان بیان کردی۔
دہلی پولیس ذرائع کے مطابق متاثرہ لڑکی ڈپریشن کا شکار تھی۔ پینک اٹیک کے سوال پر لڑکی نے ڈاکٹر کو بتایا کہ اس کے ماموں یعنی ڈپٹی ڈائریکٹر ویمن اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ پریمودے کھاکھا نے اس کے ساتھ کیسے ظلم و ستم کیا۔ اسپتال سے ڈاکٹروں کے ذریعے اطلاع ملنے کے بعد پولیس فوراً حرکت میں آئی اور ملزم ڈپٹی ڈائریکٹر کے خلاف پوسکو کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق لڑکی نے اپنی شکایت میں بتایا کہ دو سال قبل اس کے والد کی موت کے بعد ماں نے لڑکی کو براڑی میں اس کے ماموں پریمودے کھاکھا کے گھر بھیج دیا تھا جہاں وہ اکتوبر 2020 سے فروری 2021 تک رہی۔ اس دوران ملزم نے اس کی عصمت دری کی اور اپنی بیوی کی مدد سے ایک بار اس معصوم کا اسقاط حمل بھی کروا دیا۔
پولیس کے مطابق 164 سی آر پی سی کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے متاثرہ کا بیان ریکارڈ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹرز کے مطابق معصوم کی حالت بیان ریکارڈ کرانے کے لیے ابھی سازگار نہیں، اس لیے جیسے ہی حالت بہتر ہوگی اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔ اس معاملے میں پولیس نے تحقیقات تیز کر دی ہیں۔
No Comments: