
نئی دہلی، 10 مارچ(میرا وطن نیوز)
جمعیت علماءہند کے وفدنے منگل کومولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیت کی ہدایت پر جوائنٹ پولیس کمشنر جتن نروال سے ان کے دفتر جنک پوری میں ملاقات کی۔اس وفد کی قیادت جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کی۔
وفد نے اتم نگر کی جے جے کالونی میں 26 سالہ ترون کمار کی موت کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صور تحال او ر بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور موثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر جمعیت علماءہند کی جانب سے ایک تفصیلی میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔اس سلسلے میں جمعیت کی طرف سے مرکزی وزیر داخلہ، ایل جی اور پولیس کمشنر کو بھی خط ارسال کیا گیا ہے۔
وفد نے پولیس افسر کو بتایا کہ واقعہ کے بعد علاقے کے مسلمان شدید خوف اور بے چینی میں مبتلا ہیں۔ بعض فرقہ پرست عناصر مسلسل اشتعال انگیزی کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان کی املا ک کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی نفرت انگیز ویڈیوز اور اشتعال انگیز نعروں کے ذریعے ایک پوری کمیونٹی کو برباد کرنے کی دھمکی دی جارہی ہے۔ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس کی راجدھانی میں ایسے عناصر اس قدر حوصلہ سےنسل کشی کی دھمکی دے رہے ہیں اور ان کو کسی کارروائی یا قانون کا کوئی خوف نہیں ہے۔
جمعیت علماءہند نے اپنے میمورنڈم میں کہا کہ ترون کمار کی موت کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور تنظیم اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ لیکن مکمل صورتحال کا سامنے آنا ضروری ہے ، اس لیے پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی لو گوں کے مطابق یہ واقعہ دو فریقوں کے درمیان جھگڑے کا نتیجہ ہے، تاہم بعض عناصر نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔
میمورنڈم میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ واقعہ کے بعد ملزمین اور ان کے پڑوسیوں کے گھرو ںمیں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ زنی کی اطلاعات ملی ہیں اور ایم سی ڈی کی جانب سے کی گئی بلڈوزر کارروائی بھی قانونی طریقہ کار کے مطابق نہیں معلوم ہوتی، جبکہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ کسی بھی شہری کے خلاف کارروائی صرف قانون کے طے شدہ طریقہ کار (Due Process of Law ) کے تحت ہی کی جا سکتی ہے۔
جمعیت علماءہند نے اس موقع پر حکومت اور پولیس انتظامیہ کے سامنے یہ مطالبات پیش کیے کہ فرقہ وا ر انہ نفرت پھیلانے اور تشدد پر اکسانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی اشتعال انگیزی پر فوری روک لگائی جائے۔جے جے کالونی اور اطراف کے علا قوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے موثر سیکورٹی انتظامات کیے جائیں۔واقعہ کے بعد ہونے والی توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ زنی کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔نیز رمضان المبارک اور عید الفطر کے پیش نظر مسلمانوں کو بازار کھولنے، مساجد میں نماز ادا کرنے اور عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے کے لیے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
جوائنٹ کمشنر پولیس جتندر نروال نے وفد کو یقین دلایا کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں اور نفرت و افواہیں پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ باہر کے افراد کے علاقے میں داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے امن کمیٹی کی میٹنگ بھی منعقد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مسلمانوں کو عبادات اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے فوری طور پر مقامی تھانے سے رابطہ کر کے بازار کی صورتحال معلوم کی اور ہدایت دی کہ دکانیں معمول کے مطابق کھولی جائیں اور مسلم دکانداروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
اس وفد میں ناظم عمومی جمعیت کے علاوہ مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی، ایڈوکیٹ محمد نوراللہ سپریم کورٹ، مولانا محمد قاسم نوری، مولانا قاری عارف قاسمی، حافظ محمد یوسف اعظمی، مولانا مفتی محمد ذاکر قاسمی اور قاری فرقان چودھری جبکہ مقامی افراد میں جمیل احمد اور محمد سرتاج نے بھی وفد کے ساتھ شرکت کی اور پولیس افسروں کو علاقے کے حالات اور عوامی خدشات سے آگاہ کیا۔اس موقع پر ناظم عمومی جمعیت علماءہند نے مقامی افراد سے امن وامان بنائے رکھنے کی اپیل کی اورکہا کہ اگر ضرورت ہو جمعیت ہر ممکن مدد فراہم کرے گی
No Comments: