
نئی دہلی،7مارچ (میرا وطن)
جماعتِ اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس میں امیر جماعت اسلامی سید سعادت اللہ حسینی نے ملک میں خواتین کی عزت و وقار کو درپیش خطرات، بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور مغربی ایشیا میں شدید ہوتے فوجی تنازعے پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے آنے وا لے عالمی یومِ خواتین کی مناسبت سے کہا کہ اگرچہ یہ دن خواتین کی کامیابیوں کے اعتراف اور حقوق کے حوالے سے منایا جاتا ہے لیکن خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اس حقیقت کی نشاندہی کر تے ہیں کہ ان کی سلامتی، وقار اور مساوی مواقع کے لیے جدو جہد کا سفر ابھی باقی ہے۔
امیر جماعت نے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق صرف 2022 میں بھارت میں خواتین کے خلاف جرائم کے 4.45 لاکھ سے زیادہ معاملات درج کئے گئے ہیں۔ ان میں جنسی زیادتی، جنسی حملہ، گھریلو تشدد، ہراسانی، انسانی اسمگلنگ اور رشتہ داروں کی جانب سے ظلم و ستم جیسے وا قعات شامل ہیں۔ اسی سال 31 ہزار سے زائد ریپ کے مقدمات درج ہوئے، یعنی اوسطاً روزانہ جنسی زیادتیوں کے تقریباً 85 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
امیر جماعت نے کہا کہ گمشدہ خواتین کے مسئلے کو بھی نہایت تشویشناک قرار دیا۔ این سی آر بی کے اعداد و شمار کے مطا بق ہر سال بھارت میں لاکھوں خواتین اور لڑکیوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ درج کی جا تی ہے جن میں سے بڑی تعداد تلاش نہیں ہو پاتی۔خاص طور پر خواتین اور نوعمر لڑکیاں انسانی اسمگلنگ ، جبری مشقت، استحصال اور جنسی تشدد کا زیادہ شکار بنتی ہیں۔
معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ مرکزی بجٹ 2026–27 کے بعد سامنے آنے والی صورت حال نے بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے خدشات کو مزید سنگین بنا دیا ہے ۔ مغربی ایشیا کی جنگ پر بات کرتے ہوئے سید سعادت اللہ حسینی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرا ئیل کی طرف سےجاری مشترکہ فوجی کارروائیوں پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔
No Comments: