
مدار س، مساجد، اسکول، مکتب اور گلیوں کے نام اردو میں لکھنے کی اپیل
نئی دہلی، 10 مارچ (میرا وطن نیوز )
اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (یوڈی او) صوبہ دہلی کی فروغ اردو کے حوالے سے ایک اہم میٹنگ مع افطار رود گران، لال کنواں، دہلی میں زیرصدارت ڈاکٹر مفتی جاوید انور منعقد ہوئی۔ اس دوران عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ مدار س، مساجد، اسکول، مکتب اور گلیوں کے نام اردو میں لکھنا رائج کریں۔یہ میٹنگ افطار سے قبل اور ڈنر کے بعد تک دو مرحلوں میں پوری ہوئی۔
اس موقع پر ’یوڈی او‘ صوبہ دہلی کے جنرل سکریٹری ماسٹر مقصود احمد نے تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح ماضی میں ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن میں شریف الحسن نقوی اور آر پی سنگھ نوڈل آفیسر تھے ،دہلی سرکار سے اپیل ہے انہیں اسی طرح ازسرنو بحال کیا جائے۔
ماسٹر مقصود نے مزید کہا کہ 2020 کی نئی ایجوکیشن پالیسی آئی ہے اس میں سرکار نے یہ طے کیا ہے کہ بچوں کو ان کی مادری زبان میں تعلیم دی جائے، کوشش کی جائے تمام پرنسپل سے مل کر کم از کم ا?ٹھویں تک مادری زبان میں تمام مضامین پڑھائے جائیں۔
سوشل ورکر اقبال ملک نے بتایا کہ گزشتہ 25 سال سے اردو اخبار خرید کر پڑھتا ہوں،تنظیم سے جڑ کر میں اردو کے فروغ کے لیے کام کروں گا۔ ڈاکٹر نجم السحر نے کہا کہ ہم اردو میں بورڈ لگانے کا سلسلہ گلی مدرسہ شاہ عبدالعزیز دہلوی سے شروع کریں گے جو کلاں محل دہلی میں واقع ہے۔ تنظیم کے کنوینر وسیم احمد صدیقی نے کہا کہ دہلی میں سہ لسانی فارمولے پر کام ہونا چاہیے۔ اشفاق حسین نغمی نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے محلوں میں میٹنگ کی جائے اور دعوت نامے بھی اردو میں لکھے جائیں۔ گریٹ ایجو کیشن ویلفیئر ٹرسٹ کے قومی صدر محمد اشرف نے کہا کہ اردو ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن دہلی کے لیے ہر ممکن خدمات پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔
سینئر جرنلسٹ محمد اویس نے کہا کہ گزشتہ بارہ تیرہ سالوں سے پوسٹ رجسٹرار آ فس میں خط و کتابت کے لیے کوئی اردو افسر نہیں ہے نہ ہی ودھان سبھا میں اردو میں کاروائی لکھنے کے لیے افسر موجود ہے۔ڈ ی آئی پی ڈیپارٹمنٹ سے جو میگزین نکلتی ہے اس کا اردو ایڈیٹر بھی موجود نہیں ہے۔ ایل جی آفس میں اردو ادھکاری موجود نہیں ہے جو خبروں کو ٹرانسلیشن کر کے آ گے بھیجتا تھا۔ اردو اخبارات میں جو کچھ چھپتا تھا اس کی کلپنگ اردو میں ہوتی تھی وہ کلپنگ نہیں ہو رہی ہے، موجودہ سرکار نے یہ تمام پوسٹیں ختم کر دی ہیں۔ اس کا منفی اثر اردو کی ترویج و ترقی پر ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے ہندی کی طرح اردو کی ترویج و ترقی کے لیے منصوبہ لازمی ہے۔ اس موقع پر اتفاق رائے سے حکومت دہلی سے اردو اکیڈمی دہلی کی جلد سے جلد تشکیل نو کرنے اور اردو اکیڈمی میں خالی اسامیوں کو بھی پ ±ر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ڈاکٹر مفتی جاوید انور دہلوی نے اپنے کلید ی خطبے میں کہا کہ جس طرح روڑی بدر پور کونکریٹ وغیرہ سے مل کر مکان بنتا ہے اسی طرح اردو دنیا سے وابستہ ہر شخص کو جوڑ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
اردو ڈیو لپمنٹ آرگنائزیشن صوبہ دہلی کے نئے انتخابات کے لئے صدر، جنرل سکریٹری اور خزانچی کے لیے با لتر تیب ڈاکٹر مفتی جاوید انور، ماسٹر مقصود احمد اور محمد عمران قنوجی کے ناموں پر اتفاق کیا گیا جبکہ نائب صدور کے لئے ڈاکٹر عشرت کفیل اور ڈاکٹر نجم السحر کے علاوہ ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی اور ڈاکٹر شکیل احمد میرٹھی کے ناموں کا اضافہ کیا گیا۔ سکریٹری کے لیے حکیم مرتضیٰ دہلوی اور ملک محمد ندیم کو منتخب کیا گیا۔ ایگزیکیوٹو ممبران میں سوشل ورکر اقبال ملک، اشفاق حسین نغمی، ندیم عارف اور محمد اشرف کے ناموں کا اضافہ کیا گیا۔ تنظیم کے سرپرست عرفان احمد اعظمی کے ساتھ زاہد علی صدیقی کے نام کا اضا فہ کیا گیا۔ میٹنگ میں شاہد انصا ری، محمد عامر اور ندیم ملک وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا۔
No Comments: