
سماج میں نفرت پھیلانے کےلئے سروہی پر یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج ہو:شاہد گنگوہی
نئی دہلی،24فروری (میرا وطن)
دہلی ہائی کورٹ کی چیف جسٹس بینچ نے سیو انڈیا ٹرسٹ کی مفاد عامہ کی پٹیشن کو خارج کردی۔ پٹیشن میں جہانگیر پوری میں وقف نوٹیفیکیشن1980 کی62،72 اور 92اراضی پر تعمیر جامع مسجد، موتی مسجد اور جہانگیر پوری مسجد کے گزٹ کو 46سال بعد چیلنج کیا گیا تھا۔
سوشل اینڈ آرٹی آئی ایکٹیوسٹ محمد شاہد گنگوہی نے واضح کیا کہ وقف گزٹ پراپرٹی کو اندرون ایک سا ل چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ مگر پریت سروہی کی سنستھا سماج میں نفرت پھیلانے کی غرض سے چھیالیس سا ل بعد وقف نوٹیفیکیشن کو چیلنج کیا ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں دستور میں دیے گئے مفاد عامہ کی پٹیشن فائل کرنے کے حق کو غلط استعما ل کیا جا رہا ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔کورٹ نے وقف گزٹ نوٹیفیکیشن کو درست مانتے ہو ئے واضح کیا کہ گزٹ کئے جانے سے قبل ایک لمبی قانونی کاروائی پوری کرنی ہوتی ہے تب جاکر سرکا ری نوٹیفیکیشن جاری کیا جاتا ہے جس کی معتبریت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔
گنگوہی نے بتایا کہ پریت سروہی نے اس قبل بھی ہائی کورٹ کو اندھیرے میں رکھ کر وقف ارضی پر مذ ہبی عبادت گاہوں کے خلاف انہدامی کارروائی کے آرڈر جاری کراچکا ہے جس پر اب روک لگنے کی امید ظاہر کی ہے- شاہد گنگوہی دہلی پولس سے مطالبہ کیا ہے کہ ہائی کورٹ کی موجودہ فیصلہ کے مدنظر سما ج کو بانٹنے اور نفرت پھیلانے کو لیکر پریت سروہی پرمیسا ،این ایس اے اوریو اے پی اے کے تحت معاملہ درج کرکے کارروائی کرے۔
No Comments: