
بنگلور: پانچ مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری سے متعلق کرناٹک کے وزیر داخلہ جی پرمیشور کے بیان سے ریاست میں تنازعہ برپا ہوگیا ہے۔مسٹر جی پرمیشور نے کہا تھا کہ تخریبی سرگرمیوں کو انجام دینے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار مشتبہ افراد کو دہشت گرد نہیں کہا جا سکتا ہے۔ گرفتاریوں کے بعد انہوں نے کہا، “ابھی کوئی انہیں دہشت گرد نہیں کہہ سکتا اور انہیں فی الحال صرف ملزم ہی کہا جانا چاہیے۔سٹی کرائم برانچ (سی سی بی) پولس نے شہر کے مختلف حصوں میں تخریبی سرگرمیوں کو انجام دینے کی مبینہ منصوبہ بندی کرنے والے پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے۔پانچ مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری کی تحقیقات میں دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) سے روابط کا انکشاف ہوا ہے۔ ملزمان نے افغانستان کے سرحدی علاقے میں بیٹھ کر دہشت گردی کا ماڈیول چلانے والے گینگسٹر محمد جنید کے بارے میں بھی معلومات دی ہیں۔بی جے پی نے دہشت گردی کے مشتبہ ملزمان پر سری پرمیشور کے نرم بیانات کی نکتہ چینی کی ہے۔ بی جے پی نے اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز پر وزیر داخلہ سے دہشت گردوں کو کلین چٹ دینے کی کوشش پر سوال اٹھایا۔ بی جے پی کی کرناٹک یونٹ نے جمعرات کے روز وزیر داخلہ سے سوال کیا کہ “وزیر داخلہ نے ابتدائی ثبوت کے باوجود گرفتار پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو کلین چٹ کیوں دی؟
وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر ملزمان پر دہشت گرد کا لیبل لگانا درست نہیں ہے۔ ابھی گرفتار کیے گئے افراد کو دہشت گرد قرار دینا جلد بازی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دہشت گردوں کے خلاف بے رحمی سے کارروائی کرے۔ پولیس کو آزادی دی جائے اور اگر نہیں دی گئی تو بی جے پی حکومت کے خلاف سخت احتجاج کرے گی۔
جب صحافیوں نے وزیر داخلہ کا دھیان سٹی پولس کمشنر بی دیانند کے بیان پر دلایا، جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا لشکر طیبہ سے تعلق ہے، تو انہوں نے (وزیر داخلہ) اپنا بیان واپس لے لیا۔ انہوں نے کہا، “ہاں۔ میں اپنا بیان درست کروں گا۔ اس لیے ثبوت کی کمی ہے، میں نے ابتدائی بیان دیا اور آج ہمیں چار دستی بم ملے ہیں۔ اس لیے فطری طور پر ان کا تعلق دہشت گرد گروپوں سے ہے۔ ہم معلوم کریں گے کہ ان کا تعلق کس گروپ سے ہے۔”واضح رہے کہ کرناٹک کی سینٹرل سٹی کرائم برانچ نے بدھ کے روز پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا اور دھماکہ خیز مواد، ہتھیاروں اور آلات کا ایک بڑا ذخیرہ ضبط کرنے کا دعوی کیا تھا۔
No Comments: