
نئی دہلی: پاکستان سے ہندوستان آنے والی اور گوتم بدھ نگر کے ربو پورہ میں رہائش پذیر سیما حیدر معاملے پر پہلی بار ہندوستانی وزارت خارجہ نے آفیشیل بیان جاری کیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ معاملہ زیر تفتیش ہے اور ہمارے پاس اس کے بارے میں تمام معلومات ہیں۔
پاکستانی شہری سیما حیدر کے معاملے پر پریس کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے کہا کہ ہم اس معاملے سے آگاہ ہیں۔ اسے عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور اب وہ ضمانت پر باہر ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور اگر کوئی اطلاع آئی تو ہم آپ کو دیں گے۔ ابھی کے لیے، میں بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں۔
سیما سچن لو اسٹوری کیس سے متعلق ذرائع کے مطابق پاکستانی خاتون سیما غلام حیدر کو پاکستان واپس بھیجا جا سکتا ہے یعنی انہیں ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سیما حیدر غیر قانونی طور پر پاکستان سے نیپال کے راستے ہندوستان میں داخل ہوئی تھی۔ اس کے پاس ہندوستان میں داخل ہونے کا کوئی ویزا نہیں تھا۔ یہی نہیں، سیما اپنے ساتھ 4 بچوں کو بھی غیر قانونی طور پر ہندوستان لے آئی ہے، جس کے بعد سیما کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے اور اسے ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے، تاہم اس سے پہلے ایجنسیاں ہر قسم کی انکوائری کرنا چاہتی ہیں۔
No Comments: