
قانون کمزوروں کو کچلنے کا ہتھیار نہیں بلکہ انصاف قائم کرنے کا وسیلہ بنے:مولانا محمودمدنی
نئی دہلی ،24فروری(میرا وطن)
ہلدوانی کے ریلوے کالونی سے متعلق طویل عرصے سے جاری مقدمے میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے منگل کو ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ متعلقہ زمین ریلوے کی ملکیت ہے اور اس کے استعما ل کا فیصلہ کرنے کا حق ریلوے کے پاس ہے ، تاہم عدالت نے اس معاملے کے انسانی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستی سرکار، ریلوے اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ بے دخلی سے متاثر ہو نے والے خاندانوں کی شناخت کرکے انہیں منظم طریقے سے بازآبادکاری کے عمل میں شامل کیا جا ئے تاکہ کوئی بھی خاندان بے یار و مددگار نہ رہ جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اپریل میں اگلی سماعت ہوگی ، اس وقت کوئی انہدامی کارروائی نہ کی جائے۔
عدالت نے یہ فیصلہ جمعیت علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی ہدایت پر متاثرہ کالونی کے29 /افراد کی طرف سے دائر کردہ ایس ایل پی نمبر 804/2023مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے دیا ہے ۔واضح ہو کہصدر جمعیت کی قیادت میں ریلوے کالونی کے متا ثرہ خاندانوں کی جانب سے جنوری 2023 کو دائر کیا تھا جس پر عدالت نے 5 جنوری 2023 کو ابتدائی مرحلے میں ہی اسٹے جاری کیا تھا۔ آج کورٹ میں جمعیت کی طرف سے سینئر وکیل روﺅف رحیم، ایڈوکیٹ منصور علی خاں اور ایڈو کیٹ روبینہ جاوید موجود تھیں جب کہ مرکزی دفتر جمعیت کی طرف سے مقدمے کی نگرانی ایڈوکیٹ مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیت کر رہے تھے۔
آج عدالت عظمیٰ نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ چوں کہ یہ معاملہ بڑی ا?بادی سے جڑا ہوا ہے اور ہزاروں خاندان اس سے متاثر ہو سکتے ہیں، اس لیے انتظامیہ کو ذمہ داری کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ عد الت نے ہدایت دی کہ نینی تال ضلع انتظامیہ اور ہلدوانی کی مقامی انتظامیہ کیمپ لگائے، جن کے ذر یعے متاثرہ خاندانوں کا رجسٹریشن کیا جائے اور اہل افراد کو پردھان منتری آواس یوجنا (ای ڈبلیو ایس ) کے تحت درخواست دینے کا موقع فراہم کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ رمضان المبارک اور عید کے پیش نظر رجسٹریشن کیمپ 19 مارچ کے بعد لگائے جائیں تاکہ لوگ سکو ن کے ساتھ اس عمل میں شریک ہو سکیں اور ان کو رمضان میں کسی طرح پریشان نہ کیا جائے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ ایک ہفتہ تک کیمپ چلا کر اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر متاثرہ خاندان کا ذمہ دار فرد وہاں آکر اندراج کرائے اور ہاﺅسنگ اسکیموں کے فارم جمع کرا سکے۔
یہ بھی فیصلہ ہوا کہ بے دخلی کی صورت میں ریلوے اور ریاستی سرکار مشترکہ طور پر منتقل ہونے والے خاندا نوں کو چھ ماہ تک ماہانہ مالی امداد فراہم کریں گے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ ریلوے لائن کی توسیع ناگزیر ہے اور یہ زمین ریلوے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، کیوں کہ ا?گے پہاڑی علاقہ شروع ہو جاتا ہے اور توسیع کے امکانات محدود ہیں۔ دوسری طرف جمعی? کے وکیل کی جانب سے یہ موقف اختیار کیا گیا کہ علاقے میں تقریباً پچاس ہزار افراد رہتے ہیں اور ایک ساتھ ہزار وں خاندانوں کی بازآبادکاری عملی طور پر آسان نہیں، نیز یہ بھی کہا گیا کہ ریلو ے نے مکمل توسیعی منصو بہ واضح نہیں کیا۔ عدالت نے اس بحث کے دوران واضح کیا کہ کسی بھی صور ت میں زمین کے استعمال کا آخری فیصلہ قبضہ کرنے والے افراد نہیں بلکہ متعلقہ ادارہ ہی کرے گا، تاہم حکومت کو انسانی بنیادوں پر موئثر بازآبادکاری یقینی بنانا ہوگی۔
اس فیصلے پر اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے جمعیت علماءہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ انصاف کا تقاضا تبھی مکمل ہوگا جب ہر متاثرہ انسان کو باعزت زندگی اور محفوظ چھت فراہم کی جائے ،تاہم عدالت کے اس فیصلے سے ایک حد تک راحت ملی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ کسی بھی مہذب اور آئینی نظام میں یہ قابلِ قبول نہیں کہ برسوں سے آباد لوگوں کو بغیر متبادل رہائش کے بے گھر کر دیا جائے ۔ قانون طاقتوروں کے ہاتھ میں کمزوروں کو دبانے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے بلکہ مظلوموں کو تحفظ دینا اور انصاف کو یقینی بنانا ہی قانون کا اصل کام ہے۔ مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیت علماءہند ہر اس کو شش کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہے گی جو غریب اور بے سہارا طبقات کو دیوار سے لگانے کے لیے کی جائے۔
اس موقع پر جمعیت علماءہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کر کہا کہ جمعیت کا مشن صرف عدالت میں مقدمہ لڑنا نہیں بلکہ زمین پر انصاف کو حقیقت میں بدلنا ہے۔
No Comments: