
نئی دہلی ،24فروری (میرا وطن)
ملک کے ممتاز سماجی رہنما اور نامور مخیر احمد رشید شیروانی کا گزشتہ روز حیدرآباد میں انتقال ہوگیا۔ان کی عمر 94 سال تھی۔ ان کے انتقال سے ملتِ اسلامیہ ایک مدبر، مخلص اور بے لوث خادم سے محروم ہوگئی ۔ یہ اطلاع آج یہاں آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے دی ہے۔مرحوم تقریباً پانچ دہائیوں تک آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت سے وابستہ رہے اور وہ اس وقت آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی سپریم گا ئیڈنس کونسل کے چیئرمین تھے۔
مشاورت کے صدر فیروز احمد ایڈوکیٹ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مرحوم نے کئی دہائیوں تک مسلم معاشرے کی تعلیمی ترقی اور سماجی بہبود کے لیے بے لوث خدمات انجام دیں۔ وہ کئی برسوں تک دہلی ایجوکیشن سوسائٹی کے سیکریٹری رہے اور دہلی میں کریسنٹ پبلک اسکولز کے بانی اراکین میں شامل تھے ۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں بے شمار طلبہ نے معیاری تعلیم حاصل کی اور معاشرے میں نمایاں مقام پایا۔
صدر مشاورت نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ مرحوم کمیونٹی کے ایک عظیم سماجی رہنما تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی قوم کی تعلیمی و سماجی بہبود کے لیے وقف کر دی۔ ان کی رحلت سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ مدتوں محسوس کیا جائے گا۔آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے نائب صدر جناب نوید حامد نے مرحوم کی شخصی خوبیوں اور سماجی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ان سے میرا تعلق تقریباً 45 برسوں پر محیط ہے۔ ان کے ساتھ بے شمار خوشگوار یادیں وابستہ ہیں۔ وہ اصول پسند، مخلص اور قوم کے سچے خیر خواہ تھے۔
مشاورت دہلی یونٹ کے صدر ڈاکٹر ادریس قریشی نے کہا کہ وہ قوم کے ایک انتہائی مخلص ہمدرد تھے۔ ہم نے بچپن سے دیکھا کہ ان کا بھارت سیوا ٹرسٹ سیکڑوں غریب اور باصلاحیت طلبہ کی مدد کرتا ہے۔ ہزاروں افراد ان کی کاوشوں سے تعلیم حاصل کرکے اعلیٰ مقامات تک پہنچے۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
No Comments: