
نئی دہلی ،11مارچ (میرا وطن نیوز )
شعبہ فارسی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں بدھ کو یوم خواتین کی مناسبت سے ’اکیسویں صدی میں خواتین: باا ختیا ری شناخت اور سماجی انصاف کے نئے تقاضے‘کے عنوان سے توسیعی خطبہ کا انعقاد عمل میں آیا جس کی مقرر خاص پروفیسر عذرا عابدی صدر شعبہ سوشیولوجی جامعہ ماور مہمان خصوصی پروفیسر نشاط زیدی، ڈائر کٹر سروجنی نائیڈو سینٹرفار ویمنس اسٹڈیز رہی جبکہ صدارت پروفیسر سید کلیم اصغر صدر شعبہ فارسی نے کی۔ جلسہ کا آغاز ڈاکٹر یاسر عباس نے تلاوت کلام پاک سے کیا، حسب روایت مہمانوں کا پھولوں سے استقبال کیا گیا۔
اس موقع پرپروفیسر عذرا عابدی نے کہاکہ سیاسی ، سماجی اور معاشی میدان میں خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان کو فیصلہ لینے کی بھی آزادی ہونی چاہئے۔ آج صنفی مساوات پر زور دیا جاتا ہے مگر عملی طور پر ہم اپنے گھروں اور اداروں میں خواتین کے ساتھ مساوات کا سلوک نہیں کرتے۔ فیصلہ سازی اور قیادت میںبھی خواتین کی حصہ داری بڑھائی جانی چاہئے اور مرد و خواتین دونوں کو مساوی مواقع فراہم کئے جائیں۔ آج خواتین زندگی کے ہرمیدان میں آگے بڑھ رہی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ تشدد کا شکار بھی ہو رہی ہیں۔ لہذا خواتین کو بااختیار بنانا ہمارے پورے معاشرہ کے حق میں ہوگا۔
پروفیسر نشاط زیدی نے کہا کہ انٹیلیکچویل پروگراموں میں حقوق خواتین کی باتیں کی جاتی ہیں مگر سوسائٹی میں ان کے حقوق بھول جاتے ہیں۔ موصوف نے خواتین کی برابری سے متعلق کیفی اعظمی کی ایک نظم بھی پڑھ کر سنائی۔ آخر میں صدر جلسہ پروفیسر سید کلیم اصغر نے مہمانوں کاشکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر زھرا خاتون نے انجام دیئے۔ پروگرام میں اساتذہ کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
No Comments: