
چنڈی گڑھ: ہریانہ کے نوح میں حالات ابھی بھی سنگین اور کشیدہ ہیں، اس لئے سرکار نے انٹرنیٹ خدمات کو گیارہ اگست تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ حالانکہ بدھ کو کرفیو میں صبح نو بجے سے دو پہر ایک بجے تک ڈھیل دی گئی ہے اور لوگ آمد و رفت کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں ضلع کلیکٹر نے حکم کردیا ہے۔ وہیں انتظامیہ کو اندیشہ ہے کہ انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرتے ہوئے کچھ لوگ اشتعال انگیز پوسٹ اور جھوٹی افواہوں کو پھیلانے کی سازش کرسکتے ہیں، ایسے میں انٹرنیٹ کو فی الحال بند ہی رکھا گیا ہے ۔
ڈی سی نوح کے مطابق صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے اور حالات ابھی بھی سنگین اور کشیدہ ہیں، جس کے پیش نظر سرکار نے ابھی انٹرنیٹ خدمات بند رکھی ہیں۔ فی الحال لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد افسران نے مانا ہے کہ عوامی سہولیات میں خلل پڑنے، عوامی املاک اور سہولیات کو نقصان پہنچنے کا واضح امکان ہے۔ انٹرنیٹ سروسز کے غلط استعمال کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سوشل میڈیا/میسجنگ کے ذریعے ضلع نوح میں عوامی امن و امان کی گڑبڑی ہوسکتی ہے ۔
نوح کے بعد گروگرام اور سوہنا میں بھی حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے کئی سخت اقدامات کیے گئے تھے۔ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد انٹرنیٹ سروس بھی بند کر دی گئی تھی۔ لیکن اب یہ سب بحال ہو چکے ہیں۔ گروگرام میں حالات معمول پر آ گئے ہیں اور معمولات زندگی پٹری پر لوٹ رہی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ نوح ضلع میں 31 جولائی 2023 کو دو گروپ کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوگئی تھی، جس میں ہوم گارڈ کے دوجوانوں سمیت کئی افراد کی موت ہوگئی تھی اور 20 افراد زخمی ہوگئے تھے ۔قابل ذکر ہے کہ نوح ضلع میں 31 جولائی 2023 کو دو گروپ کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوگئی تھی، جس میں ہوم گارڈ کے دوجوانوں سمیت کئی افراد کی موت ہوگئی تھی اور 20 افراد زخمی ہوگئے تھے ۔
No Comments: